خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 155
خطابات ناصر جلد دوم ۱۵۵ اختتامی خطاب ۲۸ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء جو دسویں صدی ہجری میں فوت ہوئے ہیں کہ اسلام تو کسی کو مشقت میں نہیں ڈالتا ہمارے جیسے فقیہ مسلمانوں کو مشقت میں ڈال دیتے ہیں کسی کو کہہ دیتے ہیں۔تمہاری عبادتیں قبول نہیں ہوئیں اور کسی کو کہہ دیتے ہیں ( یہ ان کے اپنے الفاظ ہیں ) جاتیری بیوی کو ہم نے طلاق دے دی۔لیکن اسلام کسی کو مشقت میں نہیں ڈالتا اس لئے کسی کو مشقت میں نہیں ڈالتا کہ اسلام دین فطرت ہے۔انسان کے اندر کی جو صحیح آواز ہے جو مہذب آواز ہے اور آلائشوں سے بالکل پاک آواز ہے یہ دین فطرت کی مظہر ہے۔یہ آواز انسان کو جس طرف لے جانا چاہتی ہے اسلام بھی اسی طرف اس کو لے کر جا رہا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم : ٣١) اس لئے کوئی مشقت نہیں ہے لیکن جذبہ کی ضرورت ہے۔کوئی مشقت نہیں ہے لیکن ان باتوں کے اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے، کوئی مشقت نہیں ہے لیکن ان اسلامی آداب کو ، ان اسلامی اخلاق کو اور ان روحانی اصولوں کو جماعت احمدیہ کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے اور کوئی مشقت نہیں ہے لیکن آپ کو اپنے بچوں کا باپ بننے کی ضرروت ہے۔باپ کی جو ذمہ داریاں ہیں اولاد کی تربیت کے سلسلہ میں وہ اسے بہر حال ادا کرنی چاہئیں۔ہر باپ کو اپنے بیٹے سے یہ کہنا چاہئے دیکھو بیٹے! ہمارے پیارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کھانا کھاؤ تو دائیں ہاتھ سے کھاؤ اپنے سامنے سے کھاؤ یعنی پلیٹ کے اگلے حصہ سے نوالہ لو۔آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ کسی کے لباس پر اعتراض نہ کرو۔بعض دفعہ یہ بات دیکھنے میں آتی ہے کہ مثلا گاؤں میں کسی نے دھستا لے لیا تو کھدر کی چادر والے پر آوازہ گس دیا۔یہ بداخلاقی ہے جو بالعموم بچوں میں کہیں کہیں پیدا ہو جاتی ہے۔دنیا کو یہ بات زیب دیتی ہو گی لیکن ایک احمدی کو یہ زیب نہیں دیتی۔خدا کرے ہم سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور خدا تعالیٰ کی رضا کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں حاصل کریں۔یہی ہماری خواہش ہے یہی ہماری دعا ہے اور یہی وہ جہاد ہے جس کے شروع کرنے کا میں تم سے مطالبہ کر رہا ہوں پس دوست دعا کریں اللہ تعالیٰ ہماری یہ خواہش پوری کر دے اور ہماری زندگیوں میں ہمیں غلبہ اسلام کے دن دکھاوے۔اب ہم دعا کریں گے۔دعا کریں گے ساری دنیا کے انسان کے لئے کیونکہ ساری دنیا کے