خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 152
خطابات ناصر جلد دوم ۱۵۲ اختتامی خطاب ۲۸ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء ذمہ داری ہے۔اس لئے میں دوستوں سے کہتا ہوں کہ یہ ہتھیار تمہیں سجانے پڑیں گے۔تلواریں اس وقت نہیں تھیں نہ حکم تھا کہ اچھی تلوار میں ہوں تو لڑ نا لیکن جب تک تمہارا عملی نمونہ اخلاقی لحاظ سے ایسا نہیں ہوتا جو دنیا کو اسلام کی طرف کھینچنے والا ہو اس وقت تک تم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور تم اپنا عملی نمونہ دکھا نہیں سکتے جب تک آداب اور اخلاق اور روحانیت کے متعلق اسلامی تعلیم تفصیل کے ساتھ تمہارے ہاتھ میں نہ ہو اب تو مجھے شبہ ہے کہ جو روز مرہ کا دستور تھا اور ہمارے کانوں میں بالکل بچپن کے زمانہ میں باتیں پڑتی تھیں وہ بھی نہیں پڑتیں ہمارے بڑے اس بات کا خیال رکھتے تھے مثلاً اسلام نے کہا ہے سب انسان برابر ہیں حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنھا بڑا خیال رکھتی تھیں غریبوں کا۔ایک دفعہ کوئی دو بہن بھائی یتیم ہو گئے بیچارے بڑے غریب تھے ان کے غریبانہ کپڑے تھے۔نہانے کے لئے کبھی صابن میسر نہ آیا ہوگا۔ان کے سر میں جوئیں پڑی ہوئی تھیں۔ان کو اپنے گھر بلا لیا۔یہ میرے بالکل بچپن کی بات ہے جب کہ مجھے شعور بھی نہیں آیا تھا۔میں مدرسہ احمدیہ میں بھی اس وقت تک نہیں گیا تھا۔غرض بالکل بچپن کا زمانہ تھا۔اس وقت میں نے ایک احمقانہ بات بھی کی تھی۔ابھی بتاتا ہوں کہ وہ کیا تھی۔اگر چہ قادیان میں چھوٹی سی جماعت تھی لیکن بہت سی عورتیں حضرت ام المومنین رضی اللہ عنھا سے کہیں ہم ان کی جوئیں نکال دیتی ہیں لیکن حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا نے خود ان کی جوئیں نکالیں گرمی کے دن تھے۔ان کو خود اپنے ہاتھ سے نہلایا۔نئے کپڑے پہنائے صبح اسی طرح گزرگئی۔کھانے کا وقت آیا دستر خوان بچھا آپ نے ان کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا میری جو آئی شامت میں۔نے کہا میں تو ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہیں کھاؤں گا۔مجھے انہوں نے سبق دینا تھا کیونکہ مجھے انہوں نے ہی پالا ہے اور بڑے پیار سے سبق دیا کرتی تھیں بالکل غصے نہیں ہوئیں۔کہنے لگیں تمہاری مرضی ہے نہ کھاؤ۔کھانا مجھے نہیں دیا لیکن مجھے غصہ نہیں ہوئیں کہنے لگیں کھانا تو تمہیں اسی دستر خوان پر کھانا پڑے گا ورنہ نہ کھاؤ۔چنانچہ شام تک ہوش آ گئی کہ کھانے کے بغیر تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔پھر ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اور یہ واقعہ ابھی تک مجھے اچھی طرح یاد ہے۔اسی طرح ایک اور موقع پر میرا خیال ہے کہ اس وقت میری عمر ۸۔۱۰ سال کی ہوگی۔ذرا بڑا تھا۔ہم حضرت صاحب کے ساتھ کشمیر گئے ہوئے تھے۔گھر کا نائی جس کو بعض لوگ باوجود اس بات کے کہ جماعت اتنی ترقی کر گئی۔خدا نے