خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 147 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 147

خطابات ناصر جلد دوم ۱۴۷ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۵ء انسان کو دی ہے چنانچہ جب ہم اس قوت کو اسلامی تعلیم کے ذریعہ مہذب بناتے ہیں اور با اخلاق بنا لیتے ہیں تو اس کا نام اسلامی تعلیم میں رفق رکھا گیا ہے چنانچہ قرآن کریم نے فرمایا۔قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرۃ: ۸۴) اس کے دو حصے ہیں ایک چہرے کا expression اور ایک زبان کی نرمی بعض دفعہ کئی لوگ بلا وجہ دوسروں پر آوازہ کس دیتے ہیں اور یہ بلا وجہ آواز ہ صرف یہ نہیں کہ مختلف طاقتوں کی وجہ سے ہوتا ہے بلکہ بد عادت کی وجہ کے نتیجہ میں ہوتا ہے ایک ہی ملک میں رہنے والے اور ہم عقیدہ لوگ مثلاً عیسائیوں میں اس قسم کی بداخلاقی ہو گی کہ ایک عیسائی ! دوسرے عیسائی بھائی پر حقیرانہ آوازہ کس دے گا۔ان کو تو قُولُو الِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرة : ۸۴) کی تعلیم نہیں ملی لیکن مجھے اور آپ کو تو یہ تعلیم ملی ہے کہ بلاوجہ کسی کو زبان سے ایذا نہ پہنچائیں یا بلا وجہ بھیڑیئے کی نظر سے اپنے بھائی کو نہ دیکھیں۔اسلام نے اس کی اجازت نہیں دی۔اسلام یہ کہتا۔کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو قوت طلاقت عطا کی ہے۔اس کو اسلامی تعلیم کے مطابق رفق میں تبدیل کر دو تا کہ تم اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر سکو۔غرض یہ ساری طاقتیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہیں۔ان کی بنیادی غرض یہ ہے کہ ان کا استعمال بالا رادہ برمحل اور باموقع ہو۔اسی کو ہم عام طور پر عمل صالح کہتے ہیں۔عمل صالح کا مطلب یہی ہے کہ موقع اور محل کے مطابق فعل سرزد ہو۔مثلاً دو طاقتیں ہیں ایک طاقت ہے عفو کی اور ایک طاقت ہے انتقام کی۔اسلام نے ان دونوں کو مہذب کیا ہے یعنی مہذب شکل میں جب وہ ہمارے سامنے آتی ہیں تو ہمیں یہ کہا گیا کہ تم اس طاقت کو موقع اور محل کے مطابق استعمال کرو اگر کوئی شخص ایک ایسے آدمی کو معاف کرتا ہے کہ جس کے متعلق اسے علم ہے کہ اگر میں نے معاف کیا تو اپنی شرارت میں اور بھی زیادہ بڑھ جائے گا تو وہ اس بیچارے پر رحم نہیں کر رہا بلکہ ظلم کر رہا ہے۔اصلاح کی بجائے اسے خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اگر ایسے شخص سے اس نے انتقام لیا جس کے متعلق اسے یقین ہے کہ اگر وہ اسے معاف کر دے گا۔تو وہ اپنی اصلاح کرلے گا تو اس وقت عفونہ کرنا اور انتقام لے لینا درست نہیں اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔پس ہر خلق کا اظہار بالا رادہ ہونا چاہئے یہ نہیں کہ سوتے ہوئے لات اٹھائی اور زور سے ایڑی لگائی زمین پر اور اتفاق سے وہاں ایک بچھو جا رہا تھا ساتھ والے آدمی کو کاٹنے کے لئے اس