خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 129
خطابات ناصر جلد دوم ۱۲۹ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء گی اور ان کی نسلیں اس وقت کی نسل کے احمدیوں کو دعائیں دیں گی اور اپنے باپ دادوں کے متعلق کڑھا کریں گی کہ کیا ہو گیا تھا ان کو انہوں نے پہچانا کیوں نہیں اپنے وقت پر۔بہر حال یہ ہمارا عقیدہ ہے اور اس پر ہم پختگی کے ساتھ قائم ہیں۔ہم ان کو دائرہ اسلام کے اندر سمجھتے ہیں لیکن ہم ان کو مہدی کے منکر بھی سمجھتے ہیں اور وہ خود بھی کہتے ہیں کہ ہم منکر ہیں۔اس میں تو ہمارا کوئی جھگڑا نہیں۔اس میں بھی اتفاق ہے۔کیونکہ اگر جھگڑا ہو تو وہ کہہ دیں کہ نہیں ! ہم تو ان کو مانتے ہیں تم غلط سمجھتے ہو اور جھگڑا ختم ہو جائے گا۔ہمارا تو کوئی اختلاف ہی نہیں۔ہمیں خدا تعالیٰ نے ہر انسان سے ہمدردی کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔جو شخص خدا تعالیٰ کو گالیاں دیتا ہے۔اس کے لئے بھی ہم دعائیں کرنے والے ہیں۔جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بکواس کرتا ہے اس کے لئے بھی ہم دعائیں کر رہے ہیں تو وہ جو اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔کا خر کنند ، دعوی حبّ پیمبرم ( در نمین فارسی صفحه ۱۰۷) ان کو ہم اپنی دعاؤں سے کیسے نکال سکتے ہیں۔ان کے لئے ہمارے دل میں ہمدردی اور غمخواری کیسے نہیں پیدا ہوسکتی اور ان کے دکھوں کو دور کرنے کے لئے اور ان کو سکھ پہنچانے کے لئے ہم کیوں قربانی نہیں دیں گے۔پس یہ ہمارا مذہب ، ہمارا عقیدہ، ہمارا عمل ، ہمارا جذبہ اور ہماری خواہش ہے اور ہماری دعائیں ہیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں اس مقام سے کبھی ادھر ادھر نہ ہٹنے دے۔سویڈن کی مسجد تو ابتدا ہے میں نے بتایا ہے کہ پھر اوسلو کی مسجد بنے گی وہ بھی صد سالہ جوبلی منصوبہ کے تحت بنے گی۔اللہ تعالیٰ نے پچھلے دو سال میں جماعت پر بے حد فضل کیا ہے۔دسمبر ۱۹۷۳ء میں جب کہ سال ختم ہو رہا تھا میں نے صد سالہ جوبلی منصوبہ کا اعلان کیا تھا۔پھر ۱۹۷۴ء آ گیا وہ مرکز کے لئے ایک ابتلا کا اور ایک دکھ کا سال تھا بہر حال وہ گزر گیا اور پھر اب ۱۹۷۵ ء ختم ہو رہا ہے۔ان دو سالوں میں اتنی رقم جمع ہو گئی ہے جتنی کہ نصرت جہاں کی تین سالوں میں جمع ہوئی تھی اور وہ امن کا زمانہ تھا اور احمدی چھلانگیں مارتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے اور آ کر کہتے تھے کہ جی ہماری تجارتوں میں اور ہماری آمدنیوں میں بڑی ترقی ہو رہی ہے بڑے امن و امان میں ہم زندگیاں گزار رہے ہیں اُس وقت خدا تعالیٰ نے ان کو عام لازمی چندوں اور دوسرے نیم لازمی