خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 107
خطابات ناصر جلد دوم ۱۰۷ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء آئے ہوتے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں ہماری عقلوں کونئی جلا نہ ملی ہوتی تو ٹھیک ہے کچھ زمانہ اور بھی ایسا چلتا۔مگر اب وہ زمانہ ختم ہو گیا۔اب علوم جدیدہ کے حملوں کے مقابلہ میں اسلام کے دفاع کے لئے جماعت احمدیہ کا ذہن اور نور فراست کھڑا ہے اور وہ اسلام کو کوئی زک نہیں پہنچنے دے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ لیکن اس کے لئے ہمیں ایسے نوجوان چاہئیں۔جن کو اللہ تعالیٰ نے ذہن دیئے ہیں بعض دفعہ ماں باپ بھی غلطی کرتے ہیں۔آپ بچوں کو ہمارے پاس لے آیا کریں۔ایک دفعہ ایک بچہ کہنے لگا کہ میں تو زبان سیکھنا چاہتا ہوں اور میرے ماں باپ کہتے ہیں کہ تم ( مجھے اب یاد نہیں رہا کئی سال کی بات ہے ) غالباً انہوں نے کہا کہ تم لاء (Law) کرلو اور وکالت کرو۔میں نے اس کے ماں باپ کو کہا کہ بچے کو اللہ تعالیٰ نے زبان سیکھنے کا ملکہ اور استعداد دی ہے اور اس کو زبانیں سیکھنے کا ذہن دیا ہے تم اس ذہن کی ناشکری کیوں کرتے ہو۔اگر یہ لاء میں جائے گا تو تھرڈ ڈویژن میں پاس ہوگا اور تھرڈ کلاس وکیل بنے گا۔نہ اس کی دنیا میں کوئی عزت ہوگی اور نہ یہ خدا تعالیٰ کی راہ میں کوئی قربانی پیش کر سکے گا۔چنانچہ اس وقت ہمارا وہ بچہ دو تین زبانیں سیکھ رہا ہے۔غالبا روسی زبان بھی ان میں شامل ہے اور شاید دو تین سال تک وہ ہمارے کام آ جائے۔اب آپ یہ دیکھیں کہ ہمیں زباندانوں کی اتنی ضرورت ہے کہ روسی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ موجود ہے لیکن ہم اسے شائع نہیں کر سکتے۔کیونکہ ترجمہ کرنے والا احمدی نہیں ہے بلکہ وہ مسلمان بھی نہیں ہے اس لئے پتہ نہیں وہ کیا لکھ گیا ہے ہمیں یہ تسلی ہونی چاہئے کہ ہماری طرف سے جو ترجمہ شائع ہوا ہے وہ درست ہے۔پس ہمیں ایسے دماغ چاہئیں جو بڑے اعلیٰ درجے کے عالم ہوں وہ جو ہمیں طعنہ دیا تھا یوگوسلا و نیز نے اس کے لئے تو ایک نوجوان کو بھجوایا ہے اس کے لئے آپ بھی دعا کریں۔احمدیت میں وہ ایک نہایت ہی پیارا بچہ ہے میں نے یہاں مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اس کو زبان سیکھنے کا ملکہ ہے۔میں نے اس کو کہا کہ یوگوسلاویہ میں جا کر زبان سیکھو۔چنانچہ وہ اس غیر ملک میں جو کمیونسٹ ملک ہے چلا گیا۔اب اس غیر علاقے میں اس کو زبان کا ایک لفظ بھی نہیں آتا تھا وہ یو نیورسٹی میں داخل ہو گیا لیکن وہاں پر وہ اپنی زبان بھی، اپنی زبان میں ہی پڑھاتے ہیں چنانچہ وہ بڑا گھبرایا لیکن پیچھے پڑا رہا، دعا کرتا رہا اور دعا کے لئے لکھتا رہا، اب اس کا پہلا امتحان ہوا ہے اور وہ بڑے اچھے نمبروں پر کامیاب