خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 95 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 95

خطابات ناصر جلد دوم ۹۵ افتتاحی خطاب ۲۶؍دسمبر ۱۹۷۵ء جلسہ میں شامل ہوئے تھے کھڑے ہونے کا ارشاد فرمایا حضور کے ارشاد کے مطابق تمام غیر ملکی احباب کھڑے ہو گئے اس دوران جلسہ گاہ نعرہ ہائے تکبیر اور اسلامی عظمت کے دوسرے نعروں سے گونج اُٹھی۔) یہ لوگ امریکہ سے آنے والے ہیں جو کہ مغرب کی طرف غالباً نو دس ہزار میل کے فاصلہ پر ہے۔اور یہ مشرق کی طرف سے انڈونیشیا سے آنے والے ہیں۔آسٹریا میں بھی آواز پہنچی اور وہاں احمدی ہوئے اور افریقہ کابر اعظم جس کو دُنیا نے اندھیرا اور ظلماتی بر اعظم کہا تھا اس افریقہ کے براعظم کے دل میں خدا تعالیٰ نے نور پیدا کر دیا اور یورپ جو بے راہ روی کا مرکز بن چکا تھا اس میں سے یہ پیارے وجود پیدا ہورہے ہیں۔کتابوں میں سے یہ الہام مٹایا جا سکتا ہے کہ میں تیری تبلیغ کو دُنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا کیونکہ وہ سیاہی سے لکھا ہوا ہے اور دیواروں پر سے بھی مٹایا جا سکتا ہے لیکن اس کرہ ارض کے چہرہ سے یہ نہیں مٹایا جاسکتا کیونکہ اس کے اوپر ان انسانوں نے اسے تحریر کیا ہے۔لیکن میں پھر اپنی حقیقت کی طرف آتا ہوں ایک سیکنڈ کے لئے بھی تمہارے اندر کبر اور غرور پیدا نہ ہو۔تمہارے سر عاجزی سے ہمیشہ خدا تعالیٰ کے آستانہ پر جھکے رہیں۔تمہارے سر اُس سے زیادہ جھکنے چاہئیں جتنا کہ اس جذ بہ کے وقت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر جھک جایا کرتا تھا مگر اس سے زیادہ ممکن نہیں ہے کیونکہ حدیث میں آتا ہے دیکھنے والوں نے دیکھا اور بیان کرنے والوں نے بیان کیا کہ ایک موقع پر جب کہ آپ سوار تھے خدا تعالیٰ کی نعمتوں اور رحمتوں کی یاد میں اور اس کی حمد کے گیت گاتے ہوئے آپ کا سر جھکنا شروع ہوا اور جھکتا چلا گیا یہاں تک کہ آپ کی پیشانی کاٹھی کے اوپر لگ گئی۔اب اس سے زیادہ آپ کیسے جھک سکتے ہیں لیکن خدا کے پیار میں اور خدا کی حمد میں اور خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے جہاں تک وہ سر جھک گیا تھا اگر اس سے زیادہ نیچے جھکنا تمہارے لئے ممکن نہیں تو اس حد تک جھکنا تو تمہارے لئے ممکن ہے اور بڑی ہی بے غیرت ہوگی وہ پیشانی جو اس کے بعد اپنا سر اٹھائے۔پس جو عاجزی کا مقام تمہیں عطا ہوا ہے (اور یہ بڑا زبردست مقام ہے) اسے مت پھو لو۔یہ درس سیکھنے کے لئے آپ دوستوں کو یہاں جمع کیا جاتا ہے جو پیار کرنے کا اور دکھوں کو