خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 94 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 94

خطابات ناصر جلد دوم ۹۴ افتتاحی خطاب ۲۶؍دسمبر ۱۹۷۵ء میں انہیں کہا کرتا ہوں کہ اپنے پیارے ربّ سے بے وفائی کبھی نہ کرنا اور میری یہی نصیحت آپ سب کو ہے۔باقی خدا تعالیٰ نے قرآنِ عظیم میں اپنی رحمتوں کے حصول کے لئے بے شمار دروازے کھولے ہیں۔خدا تعالیٰ اپنے فضلوں کے دینے میں بخیل نہیں ہے یہ ہم ہیں جو اپنی جھولیوں کو سمیٹ لیتے ہیں اور اپنی مٹھیوں کو بند کر لیتے ہیں اور اس کے سامنے اپنے ہاتھوں کو نہیں پھیلاتے اس کا تو اس میں کوئی قصور نہیں۔پس اس کے اوپر تو کل رکھو۔دُنیا جو چاہے کر لے ہو گا وہی جو خدا چاہے گا۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہو گا وہ جو جماعت چاہے گی کیونکہ جماعت تو کوئی چیز ہی نہیں ہے تم اس کی حیثیت ایک مردہ کیڑے کی سمجھ لو۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہوگا وہی جو خدا چاہے گا اور خدا نے جو چاہا اس کی اطلاع اس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آج سے چودہ سوسال پہلے دی۔خدا نے یہ چاہا کہ دنیا مہدی علیہ السلام کے مقام عزت واحترام کو پہچانے اور اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ دنیا کو کہو کہ مہدی کی عزت اور احترام کرے۔چنانچہ آپ نے ساری امت میں سے ایک کو یعنی مہدی کو منتخب کر کے اسے اپنا سلام پہنچایا۔ہمیں سینکڑوں ایسی احادیث ملتی ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں اپنے اس روحانی فرزند سے جو آپ سے تیرہ سو سال کے بعد پیدا ہونے والا تھا اس قدر محبت موجزن تھی کہ یہ محمد ہی کا کام تھا کہ اس محبت کو الفاظ میں بیان کر سکیں میں اور آپ اس کو بیان نہیں کر سکتے تھے۔ہر فرقے کی کتب میں ایسی روایات موجود ہیں جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں مہدی کی محبت کا ذکر کیا گیا ہے۔پھر یہ خدا تعالیٰ کی شان اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں کے نظارے ہیں کہ وہ جسے گھر والے روٹی دینا بھول جاتے تھے (حالانکہ وہ ان کی دولت میں ان کا برابر کا شریک تھا) اور اسے اپنے ہی عزیزوں اور رشتہ داروں کی غفلت کے نتیجہ میں فاقہ کشی کرنی پڑتی تھی اسے اس کے خدا نے کہا کہ میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا اور وہ اکیلا اور غیر معروف شخص اُٹھا اور اس کی تبلیغ دنیا کے کناروں تک پہنچ گئی۔اس موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام غیر ملکی احباب کو جو وفود کی صورت میں