خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 86 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 86

خطابات ناصر جلد دوم ۸۶ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء لینے والی بن جائے۔جو دوست اس غرض کے لئے پاکستان سے باہر گئے ہوئے ہیں انہیں بھی اپنی دعاؤں میں یادرکھیں اور ہمارے جو بھائی غیر ممالک سے اس جلسہ میں شامل ہونے کے لئے آئے ہیں انہیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں کہ وہ نور سے اپنی جھولیاں بھر کر واپس جائیں اور اپنے اپنے علاقوں میں نور محمدی کی شمع جلانے والے ہوں اور دنیا کے اندھیروں کو دور کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ ان کے اموال میں اور اللہ تعالیٰ ان کے ذہنوں میں اور اللہ تعالیٰ ان کی سوچ اور عقل اور فراست میں اور اللہ تعالیٰ ان کی عمروں میں برکت ڈالے اور اللہ تعالیٰ ان کے جذبہ خدمت میں برکت ڈالے اور اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے کہ وہ نوع انسانی کے ایسے خادم بن جائیں کہ نوع انسانی نے اس سے قبل یہ نظارہ نہ دیکھا ہو کہ ایک چھوٹی سی دھتکاری ہوئی قوم دن رات اس کی خدمت پر لگی ہوئی ہے اور کوئی احسان نہیں جتار ہی اور کوئی شکر یہ نہیں چاہتی۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ملک کو خوشحال بنائے اور مستحکم بنائے اور اس کے لئے انصاف اور عدل کی بنیادوں پر ترقی کے سامان پیدا کرے اور اللہ تعالیٰ دنیا کے سارے ممالک سے فساد کو دور کر دے اور اللہ کرے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کے نتیجہ میں یہ دکھی انسانیت اپنے دکھوں سے نجات حاصل کرے اور ان کے لئے سکھوں کے سامان پیدا ہوں اور ہر خیر جو خدا تعالیٰ کے نزدیک ہمارے لئے خیر ہے خدا تعالیٰ اس کے سامان ہمارے لئے پیدا کرے۔قرآن کریم کی یہ دعا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب ہو کر بیان ہوئی ہے۔مجھے بڑی ہی پیاری لگتی ہے که رَبِّ إِنِّي لِمَا انْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ (القصص: ۲۵) اے خدا ! جو تیری نگاہ میں میرے لئے خیر ہے میں اسی کا محتاج ہوں۔انسان کا دماغ کیا چیز ہے اور اس کی سوچ کہاں تک پہنچ سکتی ہے اپنی خیر کے تعین میں۔اللہ تعالیٰ ہمارے لئے خیر! خیر! خیر!!! اور بھلائی ہی کے سامان پیدا کرے۔اب ہم دعا کر لیتے ہیں اور اس کے بعد پھر میں آپ کو الوداع کہوں گا آؤ دعا کر لیں۔از رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )