خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 83 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 83

خطابات ناصر جلد دوم ۸۳ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء کے قرب کے مدارج ان کو ملیں گے تو ایک لاکھ بیس ہزار آ گیا اور ایک کے اوپر اعتراض پیدا ہو گیا۔یہ جو خاتم الانبیاء کا مقام ہے اس کے متعلق آپ نے فرمایا یہ میرا استدلال نہیں ہے بلکہ آر نے فرمایا ہے کہ میں خاتم النبیین تھا اور ابھی آدم پیدا نہیں ہوا تھا اس کا وجود مٹی کے ذروں میں گم ہوا ہوا تھا اور مٹی کے ذروں کے ساتھ رُل رہا تھا اور مجھے اس وقت خدا تعالیٰ نے خاتم الانبیاء بنا دیا تھا یہ بات تو واضح ہے کہ خاتم الانبیاء کا مقام بشر کا مقام نہیں ہے خاتم الانبیاء کا مقام نور کا مقام ہے، سراج منیر کا مقام ہے جس طرح چاند ہے یا جو سورج کے گردگھومنے والے ستارے ہیں وہ چاند اور وہ ستارے سورج سے نور لے کر اپنا نور ظاہر کرتے ہیں اسی طرح پہلوں نے بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء کے نور سے نور لیا اور وہ دنیا میں چمکے اور بعد میں آنے والوں نے بھی آپ ہی کے نور سے نور لیا یعنی ہر قسم کا قرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہی حاصل ہوتا ہے صدیق بھی نہیں بن سکتے جب تک آپ سے نور نہ لیں اور شہید یا صالح بھی نہیں بن سکتے جب تک یہ نور نہ حاصل کریں ان سے بھی جو کم ہیں یعنی چھوٹے سے چھوٹا پیار بھی خدا سے حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ اس نور کی جھلک ان کے اندر پیدا نہ ہو تب اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ (النور:۵۲) اپنی کچھ مشابہت دیکھ کر یعنی اس نور کی جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل حاصل کیا ہوتا ہے اپنے پیار اور محبت کا سلوک کرتا ہے۔یہ ہے ہمارا ایمان اور یہ ہے ہمارا عقیدہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق، کہ ایک ہی وقت میں آپ بشر بھی ہیں اور نور بھی ہیں۔نور کے متعلق میں نے ذرا تفصیل سے بتایا ہے اور بشر کے متعلق میں نے مختصر بتایا ہے لیکن بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ اسوہ بننے کے لئے سپر (super) کی ضرورت نہیں تھی۔کوئی بن ہی نہیں سکتا۔انسان انسان کے لئے اسوہ بن سکتا ہے اور بشر بشر کے لئے اسوہ بن سکتا ہے۔فرشتے بشر کے لئے اسوہ نہیں بن سکتے۔تو خدا نے آپ کو بشر بنایا اور قرآن کریم نے آپ کی وفات کا ذکر کیا۔شعراء روئے کہ ہماری آنکھوں کا نور تو تھا۔شاعر بھٹک بھی جاتا ہے اور یہاں بھی شاعر بھٹکا کہ میری آنکھوں کا نور تو تھا۔اب میرے لئے دنیا اندھیر ہو گئی ہے یہ درست ہے کہ یہ جذبات کا اظہار ہے اور بڑا پیارا اظہار ہے لیکن آنکھوں کا نور تو ہم سے علیحدہ نہیں ہوا وہ تو جب سے دنیا بنی ہے وہ نور اس دنیا ، اس کا ئنات کے ساتھ لگا ہوا ہے سب سے پہلا نبی جو دنیا کی طرف آیا اس نے بھی اس ا