خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 82
خطابات ناصر جلد دوم ۸۲ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء لگایا گیا اور اس سارے جہان میں جہاں بھی ہمیں نور نظر آتا ہے انسان کے اندر یا دوسری مخلوق میں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء کے طفیل نظر آتا ہے۔انبیاء نے بھی نور نبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے حاصل کیا اور ذہنوں نے نور فراست بھی وہیں سے حاصل کیا اور درختوں نے نور روئیدگی بھی وہیں سے حاصل کیا اور گھوڑے اور بیل اور یہ جو جانور ہیں انہوں نے نور خدمت بھی وہیں سے حاصل کیا اس لئے کہ یہ جو آپ کا مقام نور ہونے کا ہے اس کے نتیجے میں آپ کو لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الا فلاک ( موضوعات کبیر زیر حرف لام ) کہا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات کا منصو بہ اللہ تعالیٰ نے اس لئے بنایا کہ وہ حمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء اور اپنے بعد نور کامل کے طور پر پیدا کرنا چاہتا تھا اگر حضرت خاتم الانبیاء محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے کامل نورانسانی یعنی انسان بھی اور کامل نور بھی، نہ بنایا ہوتا تو یہ کا ئنات نہ بنائی جاتی اور اگر یہ کائنات نہ پیدا کی جاتی تو پھر نہ درختوں کا نور ہوتا ، نہ حسینوں کے حسن کا نور نہ کام کرنے کے حسن عمل کانور، نہ نبیوں کا نور۔یا مقربین الہی کا نور کوئی نور ہوتا ہی نہ۔تو اس کا ئنات کی تخلیق کا منصوبہ نور ہے یہ نور ہے۔جس کے متعلق انسان کو کہا گیا کہ وہ تمہیں بلاتا ہے تم لبیک کہتے ہوئے اس کی طرف دوڑو کیونکہ وہ تمہیں اس لئے بلاتا ہے کہ تمہیں زندگی دے اور اس کا ئنات میں جو سب سے حسین نوراور سب سے اچھا نو ر ہمیں نظر آتا ہے وہ زندگی کا نور ہے یعنی وہ نور جو الحی القیوم کے ساتھ وابستگی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاتم الانبیاء بنایا اور اس کے نتیجے میں یہ نور کا مقام ہے خاتم الانبیاء مقام کا نور کامل کا مقام ہے اور آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک اگر ایک لاکھ بیس ہزار نبی آئے تو ایک لاکھ بیس ہزار نبی نے اور اگر دوسروں کے نزدیک ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی آئے تو ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی نے اس نور سے نور لیا اور خاتم الانبیاء کے نتیجہ میں آدم نبی بنے اور نوع نبی بنے اور موسی نبی بنے اور عیسی نبی بنے اور ابراھیم علیہم السلام نبی بنے اگر اس کائنات میں یہ نور نہ ہوتا یعنی پلینڈ (planned) نہ ہوتا اس کا منصوبہ نہ ہوتا تو نہ آدم کی ضرورت تھی نہ نوح کی نہ ابراہیم کی نہ موسیٰ کی نہ عیسی علہیم السلام کی کسی کی بھی ضرورت نہیں تھی۔پہلوں نے بھی خاتم الانبیاء سے نور لیا اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی محبت کو حاصل کیا اور بعد میں آنے والوں نے بھی قیامت تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء سے نور لیا یا لیں گے اور خدا تعالیٰ