خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 60
خطابات ناصر جلد دوم ۶۰ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء یہاں بھی اور غیر ممالک میں بھی میں نے دورے کئے ہیں ان کو میں نے بڑے دھڑلے کے ساتھ یہ کہا کہ تم کوئی ایسی چیز سامنے پیش کرو کہ جو تمہارے نزدیک اعتراض والی بات ہو اور میں بتاؤں گا کہ اسلام کے اوپر اعتراض نہیں پڑ سکتا۔بڑی حسین تعلیم ہے لیکن اتنی حسین تعلیم اب ہمیں تو سمجھ آ گئی۔آپ کے چہروں پر بھی بشاشت میں نے دیکھی اور مجھے خوشی ہوئی لیکن یہی تعلیم ہے جو لوگوں نے مہجور بنادی۔اس واسطے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے عقائد بڑوں کے سامنے رکھیں تاکہ یاد دہانی ہوتی رہے اور نوجوان اور نئے احمدیت میں داخل ہونے والوں کے سامنے رکھیں تا کہ ان کے علم میں یہ باتیں آتی رہیں اور وہ بھٹکیں نہ تو یہ قرآن کریم جو ہے اس کی شان خود قرآن کریم نے بیان کی ہے یہ بھی بڑی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم ایک دعویٰ کرتا ہے تو وہ کسی اور کتاب کا یا کسی انسانی ذہن کا محتاج نہیں ہے کہ اس دعوئی کو ثابت کرے بلکہ ساتھ دلیل دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ تم یہ بہت مجھ پر احسان کرتے ہو جب اعتراض کرتے ہو اسلام پر، کہ جہاں جس آیت پر اعتراض کرتے ہو جب ہم غور کرتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں تو اس کے نیچے ہمیں روحانی خزائن چھپے ہوئے مل جاتے ہیں اپنی طرف سے تم نے اعتراض کیا ہوتا ہے اور ہمارے سامنے قرآن کریم کا حسن اور اس کا احسان آ رہا ہوتا ہے۔قرآن کریم کی یہ دو صفات ایسی ہیں جنہوں نے اس کو اس قابل بنا یا کہ محد صلی اللہ علیہ وسلم پر آج سے قریباً چودہ سو سال پہلے نازل ہونے کے باوجود قیامت تک کے مسائل کو حل کرنے کی اہلیت یہ ہدایت اور یہ شریعت رکھتی ہے۔یہ ہے ہمارا ایمان قرآن کریم پر۔ہمارے اندر اگر کوئی بے وقوف پیدا ہو تو ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں جو یہ کہے کہ چودہ سو سال پہلے کتاب نازل ہوئی تھی ہمارے مسائل کو کیسے حل کرے گی۔جن لوگوں نے دعوی کیا مسائل کے حل کرنے کا ان سے میں ! نے بات کی کہ تم لوگ مسائل سمجھتے ہی نہیں حل کیسے کرو گے۔وہ جو تمہارا دعویٰ ہے کہ یہ مسئلہ پیدا ہوا اس مسئلے کو ہی تم نہیں سمجھ رہے تو اسے حل کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔مثلا حقوق انسانی ہیں کل میں نے بتایا تھا کہ اصل اس وقت جو ایک سٹرگل (Struggle) ہے وہ یہ ہے کہ انسان کو بحیثیت مجموعی یہ تسلی کون دلاتا ہے کہ اس کے حق اس کو ملیں گے اور اس کو تسلی ہو اس بات کی۔میں ان کو کہتا