خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 560 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 560

خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء ( عالم الشہادہ) ہے اور کوئی ایسا کارپرداز نہیں۔یہ اسی کے ساتھ آتا ہے کہ سونپ دی ہو کہ اب تم سنبھالو جس طرح سوات میں بادشاہ صاحب نے اپنے والی صاحب کو ریاست سپر د کر دی تھی۔یہ جو تخیل ہے کسی کے سپر د کر دینا اس میں بہت سی روحانی قباحتیں پیدا ہوتی ہیں کہ آپ نے اپنی زندگی وقف کی خدائے واحد و یگانہ کے لئے اور آپ کو جزا دینے کے لئے آ گیا کوئی اور مخلوق میں سے۔جو جانتا ہی نہیں آپ کو۔تو آپ کے ساتھ وہ آنے والا جاہل انصاف نہیں کر سکتا۔آپ کے ساتھ وہی انصاف کر سکتا ہے جس کے علم میں آپ کی زندگی کا ہرلمحہ ہے۔جس کے علم میں آپ کے دل کے خیالات ہیں۔جس کے علم میں آپ کے ذہن کے اچھے یا برے تصورات ہیں۔جس کے علم میں یہ ہے کہ آپ کا کوئی اچھا عمل خدا کی رضا کے لئے ہے یا لوگوں کی خوشنودی کے لئے ہے۔وہ آپ کو صحیح بدلہ دے سکتا ہے۔تو کوئی ایسا وجود نہیں۔خدا personal ہے ذاتی تعلق رکھنے والا ہے اور کوئی ایسا وجود نہیں اس کا ئنات میں جس کے سپر د اُس نے جزا سزا کے تعلق میں اپنی خدائی سپر د کر دی ہو۔اور ایک اور بات یہ کہ اس کی بادشاہت ہر عیب سے خالی اور پاک ہے۔خدا بادشاہ ہے نا ہمارا اور کوئی اور ایسی بادشاہت نہیں جو عیب نقص اور کمزوری سے پاک ہو۔ایک موٹی بات ایک ہی میں بتاؤں گا آپ کو سمجھانے کے لئے اور وہ یہ کہ دُنیوی بادشاہتیں اپنی کامیابیوں کے لئے اپنی رعایا کی محتاج ہیں۔اب ہمارے سامنے آ گئی سٹرائیک کر دیتے ہیں۔انہوں نے عدم تعاون کی تحریک چلائی کانگرس نے انگریزوں کو تنگ کر کے رکھ دیا کہ نہیں دیتے ٹیکس۔جو ہمارے ذمہ حکومت چلانے کے لئے رقمیں ہم تمہیں ادا نہیں کرتے۔کمزوری پیدا ہوگئی اس احتجاج کے نتیجہ میں۔تو خدا تعالیٰ کی بادشاہت ہر عیب سے خالی اور پاک ہے اور خدا کا جہاز تمام قدرتوں کے ساتھ بچے انصاف پر چل رہا ہے۔اللهُ الصَّمَدُ (الاخلاص : ۳) اللہ تعالیٰ کو کسی غیر کی احتیاج نہیں۔اس میں یہ مضمون سوچتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ سمجھایا کہ خدا تعالیٰ کی ذات اس قدر عظمتوں والی ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی ارادہ یا ئیت ایسی نہیں کر سکتا یعنی اپنی عظمت اور شان کے لحاظ سے جس کو پورا کرنے کے لئے غیر کی احتیاج ہو اُسے۔اس واسطے کہ كُنْ فَيَكُونُ۔وہ ایسی قدرتوں والا ہے کہ اس کے لئے تو کُن کہنا یعنی یہ حکم ایک مختصر ، چھوٹا ،