خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 524 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 524

خطابات ناصر جلد دوم ۵۲۴ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء یعنی دل میں آپ کے یہ تڑپ تھی کہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والے پہلے ہزاروں ، لاکھوں، خدا جانے کتنے ؟ آسمان کے ستارے بنے جماعت احمدیہ کے سارے افراد ہی ستارے بن جائیں۔( نعرے ) آپ نے فرمایا۔اور دعا کرتا ہوں کہ یہ تعلیم میری تمہارے مفید ہو اور تمہارے اندر ایسی تبدیلی پیدا ہو کہ زمین کے تم ستارے بن جاؤ اور زمین اس نور سے روشن ہو جو تمہارے رب سے تمہیں ملے۔“ اس دعا کو اللہ تعالیٰ نے قبول کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ۲ نومبر ۱۹۰۶ء میں ایک کشف دکھائی دیا۔آپ فرماتے ہیں۔میں نے دیکھا کہ رات کے وقت میں ایک جگہ بیٹھا ہوں اور ایک شخص میرے پاس ہے۔تب میں نے آسمان کی طرف دیکھا تو مجھے نظر آیا کہ بہت سے ستارے آسمان پر ایک جگہ جمع ہیں۔تب میں نے ان ستاروں کو دیکھ کر اور انہیں کی طرف اشارہ کر کے کہا۔آسمانی بادشاہت۔اس کی تعبیر میں نے یہ کی کہ آسمانی بادشاہت سے مراد ہمارے سلسلہ کے برگزیدہ لوگ ہیں جن کو خدا زمین پر پھیلا دے گا۔“ ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحه ۵۷۵) اور وہ ستارے بن جائیں گے۔دعا تھی ستارے بن جاؤ تم اور ستارے بن گئے تم۔یہ دیکھ کر پڑھ کے ، غور کر کے دعا کر کے میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ آج میں آپ کو ستارہ احمدیت دوں جو علامت ہو Symbol ہوان برگزیدہ احمدیوں کا جو آسمانی رفعتوں پرستاروں کی طرح پیدا ہوئے اور قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے، جو دنیا کی ہدایت کا سامان بنے اور وہ یہ ہے ( حضور نے اس موقع پر اس کپڑے کی طرف اشارہ کیا جس کے وسط میں یہ ستارہ بنا ہوا ہے۔حضور کے ارشاد پر یہ کپڑا اونچا کر کے حاضرین جلسہ کو دکھایا گیا تا وہ اس ستارے کا نظارہ کرسکیں۔جو نہی حاضرین کی نظر اس پر پڑی وہ فرط مسرت و محبت میں بلند آواز سے نعرے لگانے لگے۔ناقل ) یہ ستارہ احمدیت ہے۔بعد میں آئے گا وقت نعرے لگانے کا۔ایک بات اور سُن لیں۔یہ ستارہ احمدیت ہے جو اللہ کے فضل سے اور دعاؤں کے بعد میں آپ کو دے رہا ہوں۔جس طرح اس کا ئنات کی