خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 519
خطابات ناصر جلد دوم ۵۱۹ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء ساری دنیا کے دل خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتے جائیں گے دوسرے کا خطاب جلسہ سالانہ فرموده ۲۷ دسمبر ۱۹۸۱ء بمقام ربوه ده خطاب شروع فرمانے سے قبل حضور نے یونیورسٹی اور بورڈ میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے احمدی طلبہ کو اپنے دست مبارک سے تمغات پہنائے۔اس سلسلہ میں حضور انور نے فرمایا:۔الحمد للہ، اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے کہ دو سال میں اللہ کے فضل سے بنتیں طلبہ یو نیورسٹیز اور بورڈ میں اوپر کی پوزیشنیں حاصل کر کے اور اول زیادہ ، دوئم اس کے بعد تعداد میں اور چند ایک۔تیسری پوزیشن حاصل کی اور چاندی کا تمغہ بھی لیا۔جس قدر آپ خدا تعالیٰ کا شکر ادا کریں کم ہے۔ایک دفعہ ایک ایسے طالبعلم کو جو بہت اچھے نمبر لے کے پاس ہوا تھا داخلہ نہ ملا اس نے ہائیکورٹ میں اپیل کر دی۔وہاں جب بحث ہوئی تو جج نے یہ مخالف گروپ کو جو اس کو رڈ کرنے والے تھے، کہا کہ میرے پاس آنے کی بجائے تمہیں خدا تعالیٰ کے پاس جانا چاہئے تھا کہ احمدیوں کو عقل نہ عطا کرے۔(نعرے) پھر تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا :۔أَصْحَابِي كَا لَتُجُوْمِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمُ (مشكوة باب مناقب الصحابة ) کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جس کی اقتداء کرو گے ہدایت پا جاؤ گے، اپنے مقصود کو پالو گے، اللہ تعالیٰ کے ساتھ تمہارا زندہ تعلق ہو جائے گا۔میرے نقشِ قدم پر چلنے والے بن جاؤ گے۔ان چند الفاظ میں ایک تو یہ بتایا گیا کہ صحابۂ صحابہ میں فرق ہے جیسا کہ عملاً ہماری تاریخ نے بھی ہمیں یہ بتایا۔بعض وہ بھی تھے حدیث العہد کہ جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت کم صحبت پائی تھی اور آپ کے وصال کے بعد ارتداد کی راہوں کو اختیار کر لیا اور وہ بھی تھے کہ جنہوں نے