خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 514
خطابات ناصر جلد دوم ۵۱۴ افتتاحی خطاب ۲۶ دسمبر ۱۹۸۱ء اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ الامین میں بھی انہیں میں سے ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے عظیم آیات دے کر مبعوث کیا ویز جیمز تا کہ وہ ان آیات کے نتیجہ میں حصول تزکیۂ نفس کی راہ پر چلنا شروع کر دیں۔وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب اور تزکیہ نفس کرتے ہوئے جو عظیم شریعت قرآن کریم ، محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ذریعہ سے اس قوم کو دی گئی ہے اُس کا علم زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے لگیں اور اس کی حکمتیں سیکھنے لگیں اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا کہ نشانات کے ذریعے قبول ہدایت کا سامان پیدا ہوا اور ایک حد تک تزکیہ ہو گیا لیکن قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ۸۰) کہ اس کے علوم حقیقی حقیقی طور پر وہی سیکھ سکتے اور سمجھ سکتے ہیں جن کے اندر تزکیہ نفس پایا جائے تو آیات کے نتیجہ میں ایک حد تک تزکیہ نفس پیدا ہو گیا اور تزکیہ نفس کے نتیجہ میں قرآنی علوم پہلے سے زیادہ انہیں حاصل ہوئے اور قرآنی آیات اور تعلیم کی حکمتیں پہلے سے زیادہ ان کی سمجھ اور فراست اور عقل میں آئیں جس کے نتیجہ میں ان کا تزکیہ ترقی کر گیا اور اس راہ پر وہ آگے بڑھ گئے مزید تزکیہ کے حصول کے بعد انہیں قرآن کریم کے چھپے ہوئے مزید بطون حاصل ہوئے حکمتیں انہوں نے پائیں اور تزکیۂ نفس اور آگے بڑھ گیا زیادہ طہارت اور پاکیزگی انہیں حاصل ہوئی اور اس کے نتیجہ میں قرآنی علوم اور زیادہ انہیں ملے اور کیونکہ قرآن کریم کے علوم غیر محدود ہیں اس لئے اُمت محمدیہ کے لئے غیر محدود ترقیات اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے حصول کی راہیں کھول دی گئیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طریق سے ان لوگوں کی تربیت شروع کی جو آپ پر ایمان لائے جیسا کہ دوست جانتے ہیں قرآن کریم کتابی شکل میں ایک وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نہیں دیا گیا بلکہ آیت آیت اتری بلکہ بعض دفعہ آیت کے ٹکڑے مختلف اوقات میں نازل ہوئے اور اپنی جگہ پر بحکم ربی جبرائیل علیہ السلام کی ہدایت کے مطابق وہ رکھ دیئے گئے اور صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس طرح پر ایک عظیم تربیت ہو گئی اتنے پالش ہوئے ، اتنے مہذب بن گئے کہ وہ اپنی وحشت میں مشہور زمانہ تھے اپنے اخلاق میں آسمان کے ستارے کہلائے اور جو نمونہ انہوں نے غیروں کے سامنے پیش کیا اخلاقی لحاظ سے اور علمی فراست کے نتیجہ میں اور دل کے تقویٰ کے لحاظ سے اور احسان دوسروں پر کر کے اور ایک نور جو انہیں دیا گیا اور حسن جو ان میں پیدا کیا گیا اس کا مظاہرہ