خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 513
خطابات ناصر جلد دوم ۵۱۳ افتتاحی خطاب ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۱ء ہماری خواہش ہے کہ ساری دنیا کو اکٹھا کر کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا جمع کریں افتتاحی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۱ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (البقرة : ١٣٠) هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأَمِينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلْلٍ مُّبِيْنٍ ( الجمعة :٣) پھر حضور انور نے فرمایا:۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک الہامی دعا سکھائی گئی اور آپ نے وہ دعاخود بھی کی اور اپنی نسل سے بھی کروائی۔جو یہ تھی کہ اے ہمارے رب ! انہی میں سے ایک ایسا رسول مبعوث فرما جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب سکھائے اور حکمت اور دلائل سکھائے اور انہیں پاک کرے یقینا تو ہی غالب ہے اور تیری قدرتوں کا مظاہرہ حکمت کی بنیاد پر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے جو دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کروائی اسے قبول بھی کرنا تھا اور قبول کیا اور اس کا اعلان قرآن کریم میں کیا گیا ، سورۃ جمعہ میں کہ وہی خدا ہے جس نے ایک ان پڑھ قوم کی طرف اسی قوم میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا جو اُن کو خدا کی آیات سناتا ہے اور اُن کو پاک کرتا ہے اور اُن کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے الفاظ کی ترتیب ان دو آیات میں بدلی ہوئی ہے اور جس میں حکمت ہے کیونکہ قرآن کریم قرآن حکیم ہے حکمت بتاتا اور دلیل دیتا ہے۔جو قبولیت دعائے ابراہیم کا اعلان ہے اور جس آیت میں یہ اعلان کیا گیا ہے اس میں