خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 510 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 510

خطابات ناصر جلد دوم ۵۱۰ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء کشتیوں کا سہارا لینا نہیں چاہا اور اس نے کشتیوں کو جلا دیا اور اپنے افسروں کے پروٹیسٹ (Protest) کے باوجود اس نے کہا مجھے ان کی ضرورت نہیں خدائے واحد و یگانہ پر میرا تو کل ہے۔اس وقت دنیا نے اسے پاگل سمجھا لیکن ہوا وہی جو خدا نے چاہا اور آج میں تمہیں بتاتا ہوں کہ مجھے بھی دنیا کے کسی سہارے کی ضرورت نہیں خدا تعالیٰ میرا سہارا ہے اور اسی پر میرا تو کل ہے اور میں تمہیں بتا تا ہوں کہ اس صدی میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار قائم ہوگا۔اسلام غالب آئے گا۔دل اس کے لئے جیتے جائیں گے دنیا جو چاہے جیسا چاہے کرلے، جتنا چاہے زور لگا لے۔ہوگا وہی جو خدا چاہے گا۔(نعرے) (اس موقع پر سٹیج سے حسب ذیل نعرے لگائے گئے اور حاضرین نے اس زور سے نعرے بلند کئے کہ فضا ان نعروں سے گونج اٹھی۔نعرہ تکبیر اللہ اکبر خاتم النبین زنده باد خاتم المومنین زنده باد خاتم العارفین زنده باد خاتم انسانیت زنده باد انسان کامل زنده باد خانہ کعبہ پائندہ باد زنده باد اسلام حضرت مسیح موعود کی جے حضرت امیر المومنین زنده باد محبت کا سفیر مرزا ناصر احمد زندہ باد خلیفہ ذوالقرنین زنده باد نعرہ تکبیر آخر میں حضور انور نے فرمایا:۔اللہ اکبر