خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 511 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 511

خطابات ناصر جلد دوم ۵۱۱ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء اب دعا کے ساتھ جلسے کو ختم کریں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کا ہر جگہ ہی حافظ و ناصر ہو۔آپ کی دعاؤں کو قبول کرے۔آپ کی غلطیوں کو معاف کرے۔آپ کی خطاؤں اور آپ کے قصوروں کو نظر انداز کرے۔آپ سے ہمیشہ پیار کرے۔آپ کی مدد کرتا رہے۔دنیا کے ہر شر سے آپ کو محفوظ رکھے۔شیطان کا ہر وار جو آپ پر ہونا کام رہے۔دنیا میں جو مبلغین اس وقت پھیلے ہوئے دین اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے۔ان کے کاموں میں برکت ڈالے۔ان زبانوں میں تا خیر دے۔جو دُکھیا انسانیت ہے اللہ تعالیٰ ان کے دکھوں کو دور کرے۔ہمارے بھائی جو کابل سے مہاجرین کے پاکستان میں آئے ہوئے ہیں وہ بھی گھر بار چھوڑ کے تکلیفوں میں زندگی کے دن گزار رہے ہیں ان کے لئے بہت دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی تکلیفوں کو دور کرے اور ایسے سامان پیدا کرے کہ وہ واپس اپنے گھروں کو جائیں اور عزت اور آرام کے ساتھ اپنی زندگیاں پھر سے بسر کرنے لگیں اور کوئی دھبہ ان کے اوپر نہ لگے کسی کی طرف سے بھی بلکہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کا سایہ ان کے سروں پر ہو اور ہر تکلیف اور ہر بیماری سے اور ہر زخم سے اور ہر دکھ سے اللہ تعالیٰ انہیں محفوظ رکھے اور اطمینانِ قلب پیدا کرنے کے سامان ان کے لئے پیدا کرے اور کشمیر میں جو ہمارے بھائی ہیں ان کی تکلیفوں کو بھی خدا دور کرے اور دکھیا انسانیت جو اندھی ہے اور انہیں نظر نہیں آرہا کہ کس گڑھے کی طرف ان کے قدم اٹھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو آنکھیں عطا کرے اور جہنم میں گرنے سے انہیں بچالے اور ان راہوں کی طرف ان کی راہنمائی کرے جو خدائے واحد و یگانہ کی رضا کی طرف لے جانے والی ہیں۔آؤ دعا کر لیں۔نہایت پُر سوز دعا کے بعد جو حضور کی اقتدا میں کی گئی۔حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے حسب ذیل دعائیہ کلمات کے ساتھ احباب کو الوداع کہا۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔آپ سب کا اللہ تعالیٰ حافظ و ناصر ہو۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔( از رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )