خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 509 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 509

خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء میں نے بتایا تھا کہ ایک خاتم ہیں آپ نسبتی فضیلتوں اور کمالات کے لحاظ سے جن میں۔خاتم الکل خاتم انسانیت خاتم المومنین خاتم العارفین خاتم النبین اور ایک آپ کو افضلیت حاصل ہوئی ہے جو ایک صاف اور مصفی مشفی اور کامل اور حقیقی اور نسبتوں سے پاک افضلیت اور وہ یہ افضلیت ہے کہ آپ نے ایک ایسے مقام عبودیت اور مقام محبت ذاتی کو اپنے رب کی نگاہ میں حاصل کیا کہ اللہ تعالیٰ میں فنا ہو کر اپنے وجود کو کھو بیٹھے (نعرے۔نعروں کے دوران فرمایا۔ابھی لگاتے ہیں ذرا ٹھہر جائیں۔نعرے لگانے کا بھی وقت آجاتا ہے) اور اصل فضیلت فضیلت ہی ہے نسبتی ہو یا حقیقی لیکن آپ کی حقیقی عظمت آپ کا مقام اور شان وہ یہ نہیں ہے کہ کسی نسبت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم بات کر رہے ہیں۔( مثلاً ابھی ہم نے انعام دیا ہے ایک بچی کو کہ وہ لڑکیوں میں فرسٹ آئی۔اس کو ہم نے سونے کا تمغہ دیا لیکن وہ یونیورسٹی کے نتیجے میں فرسٹ نہیں آئی ) نسبتی چیز کلی طور پر خالص کمال کی طرف اشارہ نہیں کر رہی ہوتی۔لیکن جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقتا ملا وہ کامل افضیلت تھی اور وہ کامل افضیلت ملی خدائے واحد و یگانہ کی عبودیت اور محبت میں کامل طور پر فنا ہو جانے کے نتیجے میں اور اس فنا کے نتیجہ میں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور محمد کے خدا میں کوئی فرق نہیں رہا اور خدا تعالیٰ نے جس طرح اپنے وجود اور صفات کے لئے غیرت دکھائی اور اس عالمین میں اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اللہ کی غیرت نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کے جمال کے جلوے ظاہر کئے۔( نعرے) یہ جو ہے نا کامل فنافی اللہ اور ظلی طور پر ایک وحدت کا ہو جانا یہ افضلیت ہے بڑی عجیب اور قرآن کریم نے اس کو بیان کیا اور اس عظمتوں والے رسول کو اس عظمتوں والے نبی کو ہم مانے والے ہیں اوراس ایمان کے نتیجہ میں ہم نے اپنے زندہ خدا کا اپنی زندگیوں میں ایسا مشاہدہ کیا کہ دنیا کی کوئی طاقت ہم سے یہ نہیں کہلو اسکتی کہ خدا نہیں یا اس نے ہم سے یہ پیار نہیں کیا۔طارق نے