خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 508
خطابات ناصر جلد دوم ۵۰۸ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء (بنی اسراءیل :۸۲) کہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل نے بھا گنا ہی تھا۔حق سے مراد اس جگہ اللہ جل شانہ اور قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اور باطل سے مراد شیطان اور شیطان کا گروہ اور شیطانی تعلیمیں ہیں سو دیکھو اپنے نام میں خدائے تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیونکر شامل کر لیا اور آنحضرت کا ظہور فرمانا خدا تعالیٰ کا ظہور فرمانا ہوا ایسا جلالی ظہور جس سے شیطان معہ اپنے تمام لشکروں کے بھاگ گیا اور اس کی تعلیمیں ذلیل اور حقیر ہو گئیں اور اس کے گروہ کو بڑی بھاری شکست آئی۔اسی جامعیت تامہ کی وجہ سے سورۃ آل عمران جز تیسری میں مفصل یہ بیان ہے کہ تمام نبیوں سے عہد و اقرار لیا گیا کہ تم پر واجب و لازم ہے کہ عظمت و جلالیت شان خاتم الرسل پر جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ایمان لاؤ اور ان کی اس عظمت اور جلالیت کی اشاعت کرنے میں بدل و جان مدد کرو۔اسی وجہ سے حضرت آدم صفی اللہ سے لے کرتا حضرت مسیح کلمہ اللہ جس قدر نبی و رسول گزرے ہیں وہ سب کے سب عظمت و جلالیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اقرار کرتے آئے ہیں۔(سرمہ چشم آریہ روحانی خزائن جلد نمبر ۲ صفحه ۴ ۲۷ تا ۲۸۰) اسی طرح آپ فرماتے ہیں:۔قرآن شریف میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل کو۔۔۔۔۔خدا کا قول اور فعل ٹھہرایا گیا ہے مثلاً قول کی نسبت یہ آیت ہے۔وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْى يُوحَى (النجم :۵،۴) یعنی اس نبی کا قول بشری ہواؤ ہوس کے چشمہ سے نہیں نکلتا بلکہ اس کا قول خدا کا قول ہے۔اب دیکھو کہ اس آیت کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کل اقوال خدا تعالیٰ کے اقوال ثابت ہوتے ہیں پھر اس کے مقال پر ایک دوسری آیت ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے افعال بھی خدا تعالیٰ کے افعال ہیں جیسا کہ فرمایا ہے۔وَمَا رَمَيْتَ اذْرَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَلَى (الانفال: ۱۸) یعنی جو کچھ تو نے چلایا یہ تو نے نہیں بلکہ خدا نے چلایا۔پس اس آیت سے ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال بھی خدا تعالیٰ کے افعال ہیں۔“ ریویوآف ریلیجنز اردو جلد اوّل نمبر ۵ صفحه ۲۰۵)