خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 496
خطابات ناصر جلد دوم ۴۹۶ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء سب اقسام سے اعلیٰ ہیں کیونکہ ان کے ذریعہ سے صرف اخبار غیبیہ ہی معلوم نہیں ہوتے بلکہ عاجز بندہ پر جو مولیٰ کریم کی عنائتیں ہیں ان سے بھی اطلاع دی جاتی ہے اور ایک لذیز اور مبارک کلام سے ایسی تسلی اور تشفی اس کو عطا ہوتی ہے اور خوشنودی حضرت باری تعالیٰ سے مطلع کیا جاتا ہے جس سے بندہ مکروہات دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے بڑی قوت پاتا ہے گویا صبر اور استقامت کے پہاڑ اس کو عطا کئے جاتے ہیں۔اسی طرح بذریعہ کلام اعلیٰ درجہ کے علوم اور معارف بھی بندہ کو سکھلائے جاتے ہیں اور وہ اسرار خفیہ و دقائق عمیقہ بتلائے جاتے ہیں کہ جو بغیر تعلیم خاص ربانی کے کسی طرح معلوم نہیں ہو سکتے اور اگر کوئی یہ شبہ پیش کرے کہ یہ تمام امور جن کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ قرآن شریف کے کامل اتباع سے حاصل ہوتے ہیں کیونکر اسلام میں ان کا تحقق في الخارج ہونا بہ پایۂ ثبوت پہنچ سکتا ہے۔تو اس وہم کا جواب یہ ہے کہ صحبت سے۔اور اگر چہ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں لیکن بغیر اندیشہ طول کے پھر مکر رہر یک مخالف پر ظاہر کرتے ہیں کہ فی الحقیقت یہ دولت عظمی اسلام میں پائی جاتی ہے۔کسی دوسرے مذہب میں ہرگز پائی نہیں جاتی اور طالب حق کے لئے اس کے ثبوت کے بارے میں ہم آپ ہی ذمہ دار ہیں بشرط صحبت و حسن ارادت و حقق مناسبت اور صبر اور ثبات کے یہ امور ہر یک طالب پر بقدر استعداد اور لیاقت ذاتی اس کی کے کھل سکتے ہیں۔( براہین احمدیہ چہار حصص روحانی خزائن جلد اول صفحه ۵۴۳ تا ۵۴۵ حاشیه در حاشیه نمبر۳) تو یہ وہ گروہ ہے جس کے مربی اور استاد اور تربیت دینے والے اور اس مقام تک پہنچانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔خدا تعالیٰ کے ہزاروں ہزار درود اور سلام ہوں اس کو اس شخص پر جو اس گروہ کا خاتم خاتم العارفین ہے۔اب میں لیتا ہوں انبیاء کی نسبت۔ایک گروہ ہے سلسلہ نبوت حضرت آدم سے لے کے کہتے ہیں ایک لاکھ بیس ہزار یا ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء آچکے ہیں۔اس نسبت سے جیسا کہ میں نے بتایا تھا بہت سارے پہلو ہیں یعنی خاتم الانبیا کے انبیا کی نسبت سے بھی بہت سارے پہلو ہیں۔کیوں ہم کہتے ہیں کہ آپ تمام انبیا کے خاتم ہیں؟ وہ کون سے کمالات آپ کو دیئے گئے جس کے نتیجہ میں آپ تمام انبیا سے افضل ہو گئے۔اب میں ایک ایک لے کے ان کا بیان کروں گا۔