خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 481 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 481

خطابات ناصر جلد دوم ۴۸۱ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۰ء جائیں۔استانیاں رکھ کر جہاں وہ تیاری کریں دسویں جماعت تک کی۔جہاں ایسی ضرورتیں ہوں کافی بچیاں ہوں اور دوست چاہیں تو وہ مجھے اپنی تجویز لکھ کر بھجوادیں۔بچوں میں تعلیم کا شوق پیدا کرنے کے لئے ایک اعلان میں نے یہ بھی کیا۔شاید اس کا کثرت سے اعلان نہیں ہوا، ہونا چاہئے ہوتے رہنا چاہئے کہ وہ تمام طالبعلم اور طالبات جو بورڈ میں یا یو نیورسٹی میں دو یا تین سو سے اوپر کے جو ہیں وہ ( مختلف امتحانات میں مختلف تعداد رکھی ہے ) اگران میں آئیں تو ان کو میں دعائیہ کلمات لکھ کے اپنے دستخطوں سے کوئی کتاب تحفہ ہ دوں گا تو جو تین سو یا دوسو کے اندر آنے والے ہیں۔وہ بہر حال ذہین بچے ہیں ان کے اندر مزید شوق پیدا کرنے کے لئے یہ منصوبہ بنا و منتظم ہیں اس لئے ان کو چاہئے کہ اس کی طرف توجہ دیں اور بار بار یاد دلا ئیں کیونکہ بعض نے مجھے کہا کہ ہم نے لکھا تھا اور ہمیں کوئی جواب نہیں ملا۔نصرت جہاں سکیم ۱۹۷۰ء میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک منصوبہ شروع کیا گیا تھا مغربی افریقہ کے چھ ممالک میں ہائر سیکنڈری سکول کھولنے کا اور کلینک کھولنے کا اور اس وقت میں نے ایک لاکھ پاؤنڈ چندہ کی جماعت سے اپیل کی تھی۔جماعت نے دولاکھ سے زیادہ اکٹھا کر دیا یعنی دو لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ قریباً تین لاکھ پاؤنڈ اکٹھا ہو گیا۔اس سے ہم نے کام شروع کیا اللہ پر توکل کرتے ہوئے۔ہمارے نوجوان ڈاکٹروں نے وقف کیا تین تین سال کے لئے یا بعض نے کچھ زیادہ سالوں کے لئے اور منصوبہ یہ تھا کہ ہر ملک میں چار چار ہسپتال اور چار چار نئے سکول کھولے جائیں گے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے اتنی برکت ڈالی ہے کہ ساری دنیا کے دماغ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔جو منصوبہ ترین لاکھ روپے کے سرمایہ سے شروع ہوا تھا اس سے جو کام ہورہے ہیں اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ صرف غانا میں اس دفعہ جب میں گیا ہوں تو چلتے وقت میں نے عبد الوہاب بن آدم وہاں کے امیر جو ہیں ان سے پوچھا کہ تمہارے پاس اس وقت ریز رو میں کتنے پیسے ہیں نصرت جہاں کے تو انہوں نے کہا کہ two and half million پچیس لاکھ سیڈیز اور ایک سیڈی تین روپے پچپن پیسے کا ہے۔جس کا مطلب ہے کہ قریباً اسی لاکھ روپیہ ایک ملک کے ریزرو میں اور کام شروع کیا تھا