خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 469 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 469

خطابات ناصر جلد دوم ۴۶۹ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۰ء اپنے بندوں کو معاف کرتا اور جس طرح وہ حفیظ ہو کے حفاظت کرتا ہے اپنی مخلوق کی ان جلووں کو دیکھو تمہارے دلوں میں پیار پیدا ہوا اپنے رب کا اور پھر یہ دنیا بھی تمہارے لئے جنت اور دوسری دنیا بھی تمہارے لئے جنت بن جائے۔اس لئے یہ منصوبہ بنایا گیا ہے۔میں نے کہا تھا کہ جو شخص قرآن کریم کو سیکھنا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی ان صفات کے جلووں کا اسے زیادہ سے زیادہ علم حاصل ہو جو د نیوی علوم کہلاتے ہیں۔یعنی اس کا ئنات میں ، اس مادی دنیا میں جوصفات خدا تعالیٰ کی ظاہر ہو رہی ہیں اپنے جلوے دکھا رہی ہیں ان کا علم حاصل ہو گا تو قرآن زیادہ سمجھ آئے گا ور نہ تھوڑا آئے گا۔جتنا جتنا علم اس کا ،صفات باری تعالیٰ کے متعلق جتنی جتنی اس کی معرفت ، اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے متعلق بڑھتی چلی جائے گی اتنا اتنا وہ اس قابل ہوتا چلا جائے گا کہ قرآن کریم کی گہرائیوں میں جائے اور وہاں سے قیمتی موتی اور ہیرے اور جواہرات ان گہرائیوں سے نکالے اور خود بھی فائدہ اٹھائے اور دنیا کے فائدے کے بھی سامان پیدا کرے۔علم سیکھا جاتا ہے تحقیق سے جو آدمی خود کرتا ہے۔مشاہدہ سے جو آدمی آنکھیں کھلی رکھتا ہے اپنے آگے پیچھے دیکھتا ہے کیا ہو رہا ہے۔علم سیکھتا ہے انسان کسی دوسرے کی تحقیق اور اس کے مشاہدے سے علم سیکھتا ہے انسان اپنے ذاتی تجربہ سے۔مثلاً بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کو پتہ نہیں ہوتا کہ فلاں چیز کی انہیں الرجی ہے یعنی کھانے سے انہیں پھنسیاں۔پست اچھل آئے گی تو وہ جب چیز کھاتا ہے اس کو فورا پتہ لگ جاتا ہے وہ پت اچھل آتی ہے الرجک ہے وہ اس چیز کا۔تو یہ تجربہ ہو گیا نا۔کتابیں پڑھنا اس لئے ضروری ہے کیونکہ انسان اکیلا اپنی چھوٹی مختصر سی زندگی میں اس ساری کائنات کی سیر تو نہیں کر سکتا۔دوسروں نے جو علوم حاصل کئے انہوں نے یا ان کو ، اور کسی شخص نے کسی کتاب میں اکٹھا کر دیا۔کتابیں پڑھنا بہت ضروری ہے۔بہت ضروری ہے۔سپین میں ایک بادشاہ گزرا ہے (کسی انگریز نے لکھا ہے کہ جو بہت کتابیں پڑھنے والا انسان ہو وہ اچھا بادشاہ نہیں بنا کرتا ) اس نے کمزوریاں دکھائیں لیکن اسے اتنا شوق تھا علوم کے حصول کا کہ دنیا کے کونے کونے میں اس نے اپنے آدمی مقرر کئے ہوئے تھے کہ ہر اچھا لکھنے والا ابھی کتاب لکھ نہیں پاتا تھا کہ وہ اس سے معاہدہ کر لیتا تھا کہ جو تمہارا پہلا نسخہ۔ان دنوں میں یہ مطبع خانے تو ہوتے نہیں تھے ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں۔جو پہلا نسخہ تمہارا لکھا جائے ہاتھ سے وہ ہیں ہزار روپے،