خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 445 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 445

خطابات ناصر جلد دوم ۴۴۵ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء جاتی ہے اب یہ جو پیدائش ہے یہ ہے خَلْقِ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ (ال عمران : ۱۹۱) یہ آیت نہیں عظیم نہیں نشان خدا تعالیٰ کی عظمتوں اور اس کے جلال کی طرف راہنمائی نہیں کرتی یہ چیز۔تو اس چیز کو بھی آیت قرآن کریم نے کہا اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَتِ لِأُولى الْأَلْبَابِ (آل عمران: ۱۹۱) ہاں یہ ضرور کہا ہے صاحب فراست ہونا چاہئے آدمی کو پتا لگ جائے گا کہ معمولی واقعات نہیں رونما ہونے والے بلکہ خدا تعالیٰ کی عظمتوں کے نشان ظاہر کرنے والے عظیم نشان ہیں اللہ تعالیٰ کے۔اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے آیات قرآن کریم میں میں نے نوٹ تو کئے تھے بہت ساری آیات جو قرآن کریم نے سینکڑوں یہ ظاہری چیزیں ہیں پانی کا سمندروں سے بخارات کے ذریعے اٹھایا جانا قرآن کہتا ہے یہ آیت ہے پھر اس کو اس بخار کا سمٹ کے اور گاڑھا ہو جانا تھک (Thick) ہو جانا پانی کا اکٹھا ہو جانا۔جس میں سے قطرے بہہ سکیں اللہ تعالیٰ قرآن میں کہتا ہے یہ آیت ہے۔پھر اس بادل کا کسی خاص جہت کی طرف چل پڑنا ہوا کا آنا اور اس کو اڑا کر لے جانا خدا کہتا ہے یہ آیت ہے، پھر کسی ایک جگہ جا کے ہوا کا رک جانا ار بادل کا ٹھہر جانا اور نہ برسنا۔خدا کہتا ہے یہ آیت ہے یا برس جانا خدا کہتا ہے یہ آیت ہے۔سینکڑوں ہزاروں تو شاید نہیں سینکڑوں تو یقیناً قرآن کریم میں اس کا ئنات سے مادی کائنات سے تعلق رکھنے والے اللہ تعالیٰ کے جو عظیم جلوے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ہر جلوہ ہی عظیم ہے ان کو آیت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔تو ایک تو خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ( آل عمران : ۱۹۱) یہ آیت ہوئی دوسرے زمانے کو وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ (ال عمران : ۱۹۱) یہ زمانہ ہی ہے ناں۔آپ کہہ دیتے ہیں کل جو گزر گیا دن کل کا دن اور پرسوں جو آنے والا دن ہے وہ پرسوں کا دن وہ زمانہ جو ہے وہ اپنی مستقل ایک حیثیت میں آپ کے ذہن میں آتا آپ کی زندگیوں میں آتا اور ایک ایک دن جس کو آپ ایک معمولی سی چیز سمجھ کے اس پر توجہ نہ کرتے ہوئے گزار دیتے ہیں اور ایک دن آپ کو پتا لگتا ہے کہ ایک ایک دن کر کے ۸۰ سال ہماری عمر گزرگئی اور بوڑھے ہو گئے کمر یں جھک گئیں چلا نہیں جاتا کان جو ہیں ٹھیک طرح سن نہیں رہے آنکھیں ٹھیک طرح دیکھ نہیں رہیں وہ جو رعب اور دبدبہ خاندان کے اوپر تھا وہ بابے بڑھے کا رہا نہیں۔اور بولا ایک ایک دن تھا۔تو ایک دن بھی