خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 444
خطابات ناصر جلد دوم ۴۴۴ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء جس کے ذریعے کسی دوسری مخفی چیز کا پتہ لگے، ایک معنے اس کے یہ ہیں اور دوسرے، یہ جو آیات ہیں آیات وہ عقلی امور ہیں جو خدا کی ذات یا صفات کی نشاندہی کرتی ہیں ان کی طرف راہنمائی کرنے والی ہیں ان میں دلائل عقلیہ بھی آتے ہیں وہ بھی آیت بنتی ہے دلائل عقلیہ جو قرآن کریم میں زبردست عقلی دلائل ہیں ان کو بھی قرآن کریم کی زبان میں آیت کہا گیا ہے۔قرآن کریم کی ہر آیت ، آیت کہلاتی ہے ناں۔ہم کہتے ہیں اس سورۃ کی اتنی آیات اتنی آیات جو دلائل عقلیہ جو خدا تعالیٰ کی معرفت عطا کرنے والی ہیں۔اسی طرح آیات سے وہ آسمانی نشانات اور معجزات مراد لئے جاتے ہیں جو اپنے پاک بندہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ ظاہر کرتا اور ان کے نتیجہ میں انسان کی ہدایت کے سامان پیدا کرتا ہے۔آسمانوں اور زمین کی پیدائش کو بھی ، یہ یاد رکھیں بہت سارے لوگ اس چیز کو بھول جاتے ہیں آسمانوں اور زمین کی پیدائش حرکت اور زمانہ کو بھی آیت کہا گیا قرآن کریم میں یعنی سورج کی پیدائش یہ آیت اللہ ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے سورج نہیں بنایا تو تم نے بنایا کسی اور نے بنایا۔کون ہے دعوی کرنے والا کہ میں نے جا کے سورج کو بنادیا تھا۔جو چیز بھی اس کا ئنات میں اس مادی دنیا میں اور جو غیر مادی ہے اس میں بھی ظہور پذیر ہوتی ہے جو عدم سے وجود میں ظاہر ہوتی ہے یعنی پہلے نہیں تھی ہوگئی وہ آیت ہے اس کی ایک موٹی مثال ہے تو وہ چھپی ہوئی لیکن موٹی بھی ہے وہ دے دیتا ہوں جو فلکیات کے ماہر ہیں وہ کہتے ہیں کہ جو پہلا آسمان ہے سات آسمانوں میں سے جس میں ستارے اور سورج وغیرہ ہیں یہ قبیلوں میں بٹے ہوئے ہیں ستارے، یعنی ان کے اندر اپنی ایک اجتماعی زندگی ہے ان کی ، ان کو انگریزی میں گلیکسی کہتے ہیں اور بے شمار سورج ایک ایک گلیکسی میں ہیں۔بے شمار سورج ایک گلیکسی میں اور ہر گلیکسی اپنے راستے پر حرکت میں ہے کسی نامعلوم طرز کی طرف اس کی حرکت ہے جہت کی طرف اس کی حرکت ہے لیکن گلیکسی اور گلیکسیز بے شمار ہیں ان کی بھی گنتی نہیں کر سکا انسان لیکن یہ حرکت پیرال (parallel) نہیں بلکہ اس طرح ہے یعنی ہر آن دو گلیکسیز کے درمیان فاصلہ بڑھتا چلا جاتا ہے اور جب اتنا فاصلہ ہو جائے دو گلیکسی کے درمیان کہ غیر محدود بے حد و حساب سورج اس کے ایک، جس کے اندر ہوتے ہیں ناں ایک نئی گلیکسی وہاں سما سکے اتنا فاصلہ ہو جائے وہ تو کہتے ہیں وہاں وہ گلیکسی پیدا ہو