خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 438
خطابات ناصر جلد دوم ۴۳۸ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء کامل سمجھ کامل فراست کے مطابق نہیں۔پھر اطمینان مل گیا پھر ختم ہو گیا وہ شخص اپنی استعداد کی انتہا کو پہنچ گیا۔امت مسلمہ میں کوئی شخص بھی اپنی وقتی استعداد کی انتہا کو پہنچنے کے بعد وہاں ٹھہرتا نہیں کیونکہ جو وقتی استعداد تھی اللہ تعالیٰ کا فضل اس استعداد میں شدت اور وسعت پیدا کرتا ہے اور مزید ہدایت کے قبول کرنے کے سامان پیدا کرتا اور مزید فضلوں کے حصول کے سامان پیدا کر دیتا ہے، اسباب پیدا کر دیتا ہے۔دوسری تین جگہ جہاں آیا ہے جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جہاں آیا ہے کہ خدا نے وہ رسول مبعوث کر دیا کہ جس کے لئے دعا مانگی تھی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اور جو وہ چار مقاصد لے کے آ گیا جن چار مقاصد والے رسول کے لئے دعا مانگی تھی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وہ تو ایسا رسول ہے، فرق کر دیا پہلے سے کہ جس کے متبعین جو ہیں وہ غیر محدود ترقیات کے وارث بن سکتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت شامل حال ہو۔یہ تو اطلاقی زندگی ہے ناں امتحان ہے یہاں، جنت جو ہے وہ وہاں امتحان کوئی نہیں وہاں ابتلاء کوئی نہیں مجھے کہنا چاہے لیکن امتحان ہوتا ہے، کچھ کرنا پڑتا ہے لیکن فیل ہونے کا اندیشہ نہیں، انعام ملنے کا امکان ہر وقت ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر صبح خدا اپنے بندوں سے پوچھے گا جنت میں کل شام کو جو میں نے تم پر فضل کئے تھے جن فضلوں کے سایہ میں تم نے ایک رات گزاری۔اس میں اور زیادتی چاہتے ہو تو جنہوں نے خدا کی تسبیح اور حمید اور اس کے شاکر بندے بن کے وقت اپنا گزارا ہوگا وہ کہیں گے ہاں ہم چاہتے ہیں وہ پوچھا بھی گیا ہو گا اس لئے اور ہوں گے ہی سارے ایسے جن کے اندر ایک رات میں تبدیلی ایسی پیدا ہو جائے گی کہ مزید ترقیات کے دروازے کھولے جائیں اس بات کے وہ مستحق ہو جائیں گے۔پھر اللہ کہے گالاؤ میں تمہیں اور ترقی دے دیتا ہوں۔پھر شام کو پوچھے گا جو صبح تم نے ترقیات کیں بلند درجات حاصل کئے ، میرے پہلے سے بڑھ کر انعامات لئے ، ایک دن گزر گیا اس میں فرق ، وہ کہیں گے ہاں جی ہم آگے جانا چاہتے ہیں زبان حال سے کہیں گے ان کی کیفیت یہ ہوگی ، خدا تعالیٰ پھر ان کو کر دے گا۔یعنی صبح کی حالت پچھلی شام سے بہتر اور شام کی حالت پچھلی صبح سے بہتر ، اس طرح ترقیات کرتے چلے جائیں گے۔