خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 419 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 419

خطابات ناصر جلد دوم ۴۱۹ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۹ء کا معائنہ کیا اور انہوں نے فرمایا۔ہمارے ملک میں احمد یہ سیکنڈری سکول واحد سکول ہے جو اکنا مک کا مضمون بھی پڑھاتا ہے یعنی سارے ملک میں ہمارا سکول جو ہے جماعت کا ، وہ اکیلا سکول ہے جس میں اقتصادیات کا مضمون پڑھایا جاتا ہے اور ہمیں فخر ہے کہ ہم اس کے فارغ التحصیل طلباء کو اپنے دفاتر میں بڑی خوشی سے جگہ پیش کرتے ہیں۔اس واسطے کہ علمی لحاظ سے وہ اچھے ذہین طالب علم ہیں اور اعتماد کے لحاظ سے وہ دیانت دار ہیں۔سکول کے پاکستانی پرنسپل کو (یعنی ملک میں ہمارا پاکستانی پرنسپل ہے اور وہ مجھے بھی عجیب لگا کہ انہوں نے بجائے اس کے کہ کسی کیمپین کو اس کام کے لئے منتخب کیا ہوتا ، انہوں نے ہمارے پاکستانی پر نپل کو ، ہمارے سکول کا پرنسپل جو پاکستانی ہے اُسے ) ویسٹ افریقن اگزامینیشن کونسل کی نیشنل کمیٹی کا رکن منتخب کر لیا۔وہ دوسرے ملکوں میں دوروں پر بھی جاتے ہیں۔سالانہ جلسہ کی صدارت ملک میں وائس پریذیڈنٹ صاحب نے کی۔بعض جلسوں میں اُن کے پریذیڈنٹ صاحب بھی آجاتے ہیں۔گیمبیا میں امسال الاسلام کے نام سے رسالہ جاری کیا گیا ہے۔یہی حال پوری طرح تندہی کے ساتھ پوری ہمت کے ساتھ ، پورے جذبہ کے ساتھ ان ممالک میں جنہیں ایک وقت میں عیسائیت نے اسلام کی گود سے یا پیکنزم سے، بد مذہبی سے جیتا، اب ہم واپس اُن کو اسلام کی طرف لا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے مبلغوں کو یہ توفیق دی ہے۔ولا فخر ہمارے لئے فخر کی کوئی بات نہیں۔خدا ہی ہے جو منصوبے بناتا اور ہمیں کامیابیاں عطا کرتا ہے۔مشرقی افریقہ مشرقی افریقہ میں کینیا میں سکول کے اجراء کے لئے کوشش کی جارہی ہے اور ایک زمین کا ٹکڑا خرید لیا ہے۔کینیا کے پڑوسی ملک روانڈا (Rwanda) میں خدا کے فضل سے ایک جماعت قائم ہو چکی ہے۔تنزانیہ میں ایک نئے مشن کا قیام عمل میں آچکا ہے۔ایک مقامی مبلغ عیسی احمدی وہاں متعین