خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 418 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 418

خطابات ناصر جلد دوم ۴۱۸ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ دسمبر ۱۹۷۹ء انشاء اللہ بن جائے گا۔دونئی مساجد کا افتتاح ہوا ہے۔دارالخلافہ لیگوس کا مشن ہاؤس کام کی وسعت کے نتیجہ میں تنگ ہو گیا تھا۔وہ میں نے بھی دیکھا ہوا ہے بڑا تنگ۔اس کے لئے شہر سے با ہر زمین لے لی ہے اور وہاں نیا مشن ہاؤس تعمیر ہورہا ہے۔نائیجیریا کے ساتھ لگتا ہے ایک اور ملک ، آزاد ملک۔بین اُس کا نام ہے۔ری پبلک ہے۔وہاں ہمارا کوئی مبلغ نہیں۔وہی لوگ جب ادھر آتے ہیں نائیجیر یا تو اُن کا ملاپ ہوتا ہے ہمارے مشن سے۔وہ ہماری باتیں سنتے ہیں۔کتابیں پڑھتے ہیں لے جاتے ہیں۔گھر جاتے ہیں۔اپنے علماء سے باتیں کرتے ہیں۔اُن کو بتاتے ہیں مسئلے مسائل کہ یہ ایک جماعت ہے جو یہ باتیں پیش کر رہی ہے۔اس طرح اُن کو تبلیغ ہوتی ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فضل کیا ہے کہ بغیر کسی مبلغ اور مشن کے ایک مخلص اور فعال جماعت اللہ تعالیٰ نے ہمیں دے دی۔اس سال بینن کے جلسہ سالانہ پر سینکڑوں افراد جمع ہوئے۔چھوٹی جماعت ہے نئی نئی بنی ہے اور مشن ہاؤس کی تعمیر انہوں نے شروع کر دی ہے جس کے اخراجات وہ خود ہی اکٹھے کر رہے ہیں۔نائیجیریا کا ایک اہم اخبار ہے اس میں ایک اہم Personality، ایک معروف ہستی ہیں وہاں کی الحاج ابوبکر۔انہوں نے ایک مضمون شائع کیا ہے احمدیت پر اور اُس میں وہ لکھتے ہیں کہ If today, I could stand before any christian and an able to discuss about religion with confidence, it was to the Ahmediyya literature and books at my disposal۔کہ اگر آج میں اس قابل ہوا ہوں کہ مجلسوں میں بیٹھتے ہوئے عیسائیوں کے ساتھ بات کرسکوں، خود اعتمادی کے ساتھ مذہبی گفتگو کر سکوں۔تو اُس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے جماعت احمدیہ کا لٹریچر رکھا ہوا ہے اور بہت سی کتابیں ہیں میرے پاس جن کو میں نے پڑھا ہے اور اس وجہ سے میں عیسائی پادریوں کے ساتھ بات کرنے کے قابل ہو گیا ہوں۔گیمبیا: ایک اور ویسٹ افریقن ملک وہاں کے وزیر برائے اکنامک اینڈ پلانگ نے احمد یہ سکول