خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 411 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 411

خطابات ناصر جلد دوم ۴۱۱ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۹ء آخر جب ہم نے فیصلہ کیا کہ یہ اب شائع کر دو تو انہوں نے چوبیس گھنٹے کے اندر بیس ہزار نسخے شائع کر کے ہمارے ہاتھ میں پکڑا دیئے اور یہ جو خواہش، تڑپ رہی ہے میرے دماغ میں کہ دس سال کے اندراندرا مریکہ میں ایک ملین ، دس لاکھ تراجم قرآن کا پہیاں انگلش قرآن کی۔یہ تقسیم کی جائیں ، اس کا ایک دروازہ کھل گیا۔دو سال ہوئے ایک تھوک فروش نے کہا میں ایک لاکھ نسخہ قرآن کریم انگریزی ترجمہ کا لیتا ہوں۔کتنی دیر میں دیں گے؟ ہمیں کچھ پتہ نہیں تھا اُس وقت تجربہ ہی کوئی نہیں تھا۔میں نے کہا اب اس سے آگے بات نہ کرو۔کیونکہ اس کو تو شاید چار سال لگ جائیں پانچ سال لگ جائیں ، مذاق بن جائے گا سودے کا لیکن اگر آج کوئی تھوک فروش کہے کہ دس ملین لیتا ہوں تو دس ملین کا مطلب ہے پچاس دنوں کے اندر یہ مطبع جو ہے یہ چھاپ کے دے دے گا یا اس سے بھی جلدی۔ایک رستہ کھل گیا نا حرکت میں برکت ہے جب انسان کوشش کرتا ہے اور اپنی کوشش میں بالکل اندھیرے میں گھس جاتا ہے پھر خدا تعالیٰ وہاں کوئی روشنی پیدا کر دیتا ہے۔وہ کام ہو جاتا ہے۔عنقریب انشاء اللہ تعالیٰ فرانسیسی زبان میں جو دیباچہ تفسیر القرآن ہے حضرت مصلح موعود مشتمل ہے۔رضی اللہ عنہ کا کوئی ساڑھے تین سو صفحے کی کتاب ہے بہت سارے مضامین پر سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی بہت کچھ لکھا گیا ہے اس کا ترجمہ ہو چکا ہے اور پروف ریڈنگ اب ہورہی ہے میرا خیال ہے اگلے تین مہینے کے اندر اندر یہ ہو جائے گی۔دُنیا میں کئی کروڑ انسان مختلف دنیا کے علاقوں میں فرانسیسی پڑھنے والے ہیں اور بڑی خواہش رکھتے تھے۔میرے پیچھے پڑ گئے کئی فرانسیسی بولنے والے افریقین جب میں ۱۹۷۰ء میں وہاں گیا تھا کہ ہمیں جلدی قرآن کریم کا فرانسیسی ترجمہ دیں کیونکہ ہمارے پاس کوئی اچھا ترجمہ نہیں۔وہ انشاء اللہ ہو گیا تو جسے نصف دُنیا کہتے ہیں ویسے نصف نہیں لیکن مشہور ہے کہ نصف دُنیا میں انگریزی بولی جاتی ہے اور نصف میں فرانسیسی تو اُتنے حصے کے لئے بھی ترجمہ ہو جائے گا۔پھر اگر چہ روسی زبان کا ترجمہ ہو چکا ہے Revision ہونے والا ہے ( یعنی نظر ثانی ) وہ چھپ جائے اور چینی زبان میں چھپ جائے ( جہاں ہمارا نو جوان شاید، جامعہ احمدیہ کا فارغ التحصیل مبلغ زبان سیکھ رہا ہے اللہ نے یہ انتظام کر دیا۔تو پھر دُنیا کے کم از کم اسی فیصد آبادی کے