خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 392 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 392

خطابات ناصر جلد دوم ۳۹۲ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۹ء بے حد و شمار ہیں۔اُن کو تو تھوڑے سے وقت میں بند نہیں کیا جاسکتا۔انسان اپنی سمجھ کے مطابق بعض فضلوں کا انتخاب کرتا اور اُنہی کا ذکر کرتا ہے۔ہر سال رسائل اور کتب جو شائع ہوتی ہیں نئی یا پرانی اہم کتب اُن کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے جماعت کو۔ایک کتاب جو ہے وہ محض کاغذوں کا اور جو سیاہی سے کچھ لکیریں گھسیٹی جاتی ہیں اُس کا نام تو نہیں ، کتاب تو اس کا نام ہے کہ اس کے اندر بعض انسان جو حقائق کا ئنات ہیں ان میں سے بعض کو لے کے اس رنگ میں بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پڑھنے والا ان کو سمجھ سکے ان سے فائدہ اٹھا سکے۔یہی حال اصولاً ہمارے روز نامچوں اور ہفتہ واروں اور جو ماہوار رسالے ہیں کچھ ان کا ہونا چاہئے۔اس کی طرف شاید پوری توجہ نہیں کی جا رہی یا موجودہ حالات میں اتنے اور ایسے آدمی نہیں مل رہے جو ہماری زندگی کے مطابق ہماری ذمہ داریوں کے مطابق مضامین لکھ سکیں۔لیکن ایک بات میں آپ کو بتادوں میں کئی سال آکسفورڈ میں پڑھتا رہا ہوں اور جو میں نے سمجھا تھا کہ میں کیوں وہاں بھیجا گیا مجھے اجازت دی گئی اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے وہاں مجھے بھیجا اور خرچ ہوا مجھ پر۔یہ اس لئے نہیں تھا کہ میں اُن سے کچھ سیکھوں بلکہ اس لئے تھا کہ میں اس قابل ہو جاؤں کہ آپ کو کچھ سکھا سکوں۔اپنے وقت پر اور اُن کو غور سے زیر مطالعہ رکھوں۔میں نے اُن کی زندگی اُن کی عادتوں کا بڑے غور سے مطالعہ کیا۔علم کے میدان میں ایک چیز جو نمایاں طور پر میرے دماغ پر اثر انداز ہوئی وہ یہ تھی کہ اُن کا اگر کوئی ایک شخص صرف ایک چھپی ہوئی صداقت قوم کے سامنے پیش کرتا ہے (اُس وقت پیش کرتا تھا میں کہنے لگا تھا پھر میں نے بدل دیا کیونکہ وہی طریق جاری ہے ) تو وہ اس کو سر پر اٹھا لیتے ہیں کیونکہ ساری قوم نے مل کے آگے بڑھنا ہے۔اگر ہر سال کسی قوم کے دس ہزار آدمی ( دس کروڑ میں سے ) ایک نئی چیز اپنی قوم کو دیتے ہیں تو اُس قوم کے پاس ( دس ہزار نئے علوم کا خزانہ ) جمع ہو گیا۔وہ اس حقیقت کو سمجھتے تھے۔اُن کی آنکھ اُن فقروں کی طرف ، اُن عبارتوں کی طرف نہیں جاتی تھی پڑھتے وقت جو وہ دہرا رہے تھے پہلوں سے حاصل کردہ علوم کے متعلق۔صرف وہ ایک نئی بات جو انہوں نے کہی ہوتی اور اُن کی وضاحت کی ہوتی تھی اُس کو وہ لیتے تھے اور اُس کو دوسروں پہ بٹھا لیتے تھے۔کہتے تھے