خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 385
خطابات ناصر جلد دوم ۳۸۵ افتتاحی خطاب ۲۶ دسمبر ۱۹۷۹ء باہمی محبت واخوت اور بنی نوع انسان کے لئے ان کی ہمدردی اور پیار اور جذ بہ خدمت میں وہ دنیا کے لئے ایک نمونہ بن جائیں۔دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کریں اور اشاعت اسلام کے لئے ساری جماعت ایک ہو کر متحد ہو کر قرآن کریم کو ہاتھ میں لے کر جہاد کبیر میں ہمہ تن مصروف ہو جائے۔پھر آپ نے فرمایا اور بھی فوائد ہیں۔تم یہاں آؤ گے۔اپنے بھائیوں سے ملو گے۔آپس میں تعارف بڑھے گا۔وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى ( المائدة : ۳) کا جذبہ پیدا ہوگا اور اجتماعی مخلصانہ کوشش کی برکات سے سارے ہی مستفید ہوں گے۔اکٹھے ہوں گے۔باہوں میں باہیں ڈال کے جب آپ آگے بڑھتے ہیں تو کمزور بھی بہادروں کے ساتھ اور قومی کے ساتھ زیادہ حرکت کر کے آگے بڑھ رہا ہوتا ہے اور اب تو اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں کہ آپ یہاں دیکھتے ہیں کہ دنیا کے کونے کونے سے جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والے احمدی آتے ہیں۔آج بھی موجود ہیں۔امریکہ سے آئے ہیں جو یہاں سے شاید دس ہزار میل کے فاصلے پر ہے۔یورپ سے انگلستان سے آئے ہیں۔قریباً پانچ ہزار کا فاصلہ ہے کم و بیش۔صحیح فاصلے نہیں مجھے یاد، انڈونیشیا سے آئے ہیں وہ بھی آٹھ دس ہزار میل کا فاصلہ ہے کوالا لمپور سے، ملائیشیا سے ابھی مجھے علم نہیں لیکن اس سے بھی دور سے آئے ہیں۔بعض جلسہ میں شامل ہونے والے نجی سے بھی آئے ہیں جو آسٹریلیا سے بھی پرے ہے علاقہ۔اور امریکہ کا جو مشرق ہے وہی یہاں سے کم و بیش آٹھ دس ہزار ہے اور جو مغربی ساحل ہے امریکہ کا میرا خیال ہے وہاں سے بھی آتے ہیں اور وہی مشرقی ساحل سے آگے چار پانچ ہزار میل پرے ہے۔جزائر سے آنے والے ہیں۔کوئی براعظم یقیناً ایسا نہیں جہاں سے احمدی خدا تعالیٰ کی باتیں سننے کے لئے اور خدا تعالیٰ کے عرفان میں مزید روشنی پیدا کرنے کے لئے اور خدا تعالیٰ کی محبت میں آگے بڑھنے کے لئے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں اور آپ کی محبت میں، مستی میں اور تیزی پیدا کرنے کے لئے یہاں جمع نہ ہوئے ہوں۔آپ کو ملتے ہوں گے راستے میں۔بعض دفعہ آپ شاید ضرورت سے زیادہ ان کو تنگ بھی کر دیتے ہیں یعنی سینکڑوں آدمی ایک دفعہ مجھے نظر آئے جو ان سے معانقہ شروع کیا ہوا تھا۔تو ٹھیک ہے۔وہ بھی ایک جذبہ ہے اور بڑا پیارا جذبہ ہے لیکن اس سے اہم