خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 380 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 380

خطابات ناصر جلد دوم ۳۸۰ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۸ء کیوں بجائے آٹھ بجے ہمیں ملنا چاہئے تھا کھانا تو یہ بھی خدا کا فضل ہے اور ایک دفعہ میرا با قاعدہ کورٹ مارشل ہوا۔مجھے چھوٹا سا وہ ہمارا ہائی سکول والا حصہ تھا تو میں وہاں پڑھاتا بھی تھا تو وہاں کا اس کا ناظم مجھے لگا یا چھوٹے چھوٹے ان دنوں میں لنگر ہوتے تھے۔تو میں نے کچھ محنت کی۔کچھ توجہ کی کچھ دعائیں کی۔ایک دن شام کو نو بجے میں سب کو کھانا کھلا کے فارغ ہو گیا اور بڑا خوش کہ بڑے آرام کے ساتھ دوستوں نے کھانا کھا لیا ہے۔اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ افسر صاحب جلسہ سالانہ کی طرف سے ایک نائب افسر جلسہ سالانہ ساڑھے دس بجے آکر میرا یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ کیوں تم فارغ ہوئے ہو۔ساڑھے نو بجے ساڑھے آٹھ بجے یہ تو تم نے ساڑھے آٹھ یا نو بجے جو بھی تھا وقت بڑی جلدی اتنی جلدی کیسے تم فارغ ہوئے۔ضرور لوگ بھو کے پڑے ہوئے ہوں گے یہاں تم نے جن کو کھانا نہیں دیا اور ویسے ہی سلا دیا ہے۔کہا آپ دیکھ لیں جا کر ہر جگہ۔تو اس طرح بدلتی ہے دنیا ہماری ہم زمین سے بلند ہو رہے ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے اور خدا تعالیٰ کا فضل ہماری اس بلندی اور رفعت اور بڑائی کی بنیاد ہے۔ہمارے اندر کوئی ہنر نہیں۔کوئی فخر کرنے کی جگہ نہیں۔اللہ کا فضل ہے۔دعائیں کرو کہ ہمیشہ وہ ملتا رہے۔یہاں سے بھی آپ برکتیں لے کر اپنے گھروں کو واپس جائیں اور وہاں بھی آپ کے گھر ہمیشہ خدا تعالیٰ کے فضلوں اور برکتوں سے بھرے رہیں اور سفر و حضر میں خدا تعالیٰ کے فرشتے آپ کو ہر قسم کی تکلیف سے محفوظ رکھیں اور آپ کے محافظ ہوں اور آپ کے مددگار ہوں اور آپ پر برکتیں نازل کرنے والے ہوں اور وہ لوگ جن کے دل تڑپ رہے تھے اور آنہیں سکے اللہ تعالیٰ ان کے بھی سکون کے ان کے دلوں کے سکون کا سامان پیدا کرے اور ان کی خوشیوں کا سامان پیدا کرے مثلاً انڈو نیشیا میں بہت سارے ہمارے مہمان وہاں سے جو آئے ہیں وہ اس وجہ سے جو نہیں آسکے کہ آنے سے کوئی ہفتہ دو ہفتے پہلے ان کا جو سکہ تھا وہ Devalue ہوا اور قیمت ٹکٹ کی جو پہلے ساڑھے تین لاکھ روپیہ تھی وہ ساڑھے چار لاکھ ہو گئی۔پچاس فیصد زیادہ۔ہمارے ساتھ ایک انڈونیشین پڑھا کرتے تھے۔جب میں سکول میں تھا تو اب تو وہ بڑی عمر ہے ان کی۔ان کے گھر سے اہلیہ بھی آئی ہوئی ہیں۔تو وہ کہنے لگیں کہ ہم دونوں آرہے تھے۔