خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 28
خطابات ناصر جلد دوم ۲۸ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء پرے نہ ہوئے اور سیری کے احساس کی بجائے بھوک ، تڑپ اور تکلیف کا احساس پیدا ہوا تب جا کے انہوں نے یہ تجربے چھوڑے۔بہر حال اس وقت چار طاقتیں نوع انسانی کے دل جیتنے کے لئے میدان میں آئی ہیں اور اپنے اپنے رنگ میں وہ کوششیں کر رہی ہیں۔ان میں سے چوتھی طاقت اسلام کی طاقت ہے۔اور اب اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں حضرت مہدی علیہ السلام کی بعثت کے ساتھ اس کا دوبارہ سلسلہ شروع ہوا ہے۔ہم حضرت مہدی موعود علیہ السلام کی جماعت ہیں۔ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ نوع انسانی کو امت واحدہ بنانے کے لئے قربانیاں دیں۔اس پس منظر میں میں یہ بتا رہا ہوں کہ ہماری جد و جہد اور کوشش ساری دُنیا میں جاری ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے جب وطن رحمۃ للعالمین کے جلووں میں سے ایک جلوہ ہے۔ہر ملک کے بسنے والے کو اسلام نے یہی کہا ہے کہ وہ اپنے ملک سے پیار کرے اور جو ساری دنیا میں بسنے والے ہیں انہیں ساری دُنیا محبوب ہے۔اس سلسلہ میں ہماری کوششوں میں سے پہلی کوشش یہ ہے کہ اسلام نے انسان کے جو حقوق قائم کئے ہیں یہ بتا کر کہ ماڈی لحاظ سے انسان کے یہ حقوق ہیں۔ذہنی لحاظ سے یہ حقوق ہیں اور اخلاقی لحاظ سے یہ حقوق ہیں اور روحانی لحاظ سے یہ حقوق ہیں اور اسلام کے نزدیک حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو قو تیں دی ہیں اُن کی پوری سیری کے سامان پیدا کئے جائیں اور کامل نشو ونما کے لئے ذرائع پیدا کئے جائیں۔یہ اپنی ذات میں ایک لمبا مضمون ہے۔یہاں اشارہ کر دینا کافی ہے اور اس ضمن میں ہمارا دُنیا سے مقابلہ اس بات میں ہے کہ نوع انسانی کے دلوں کو جیتنے کے لئے ضروری ہے کہ ساری دُنیا کو یہ بتایا جائے خصوصاً ان دعویداروں کو جو دُنیا کو ایک خاندان بنانے کے متمنی ہیں کہ تمہیں تو یہ بھی پتہ نہیں کہ انسان کا حق کیا ہے تم اس کی ادائیگی کیسے کرو گے؟ یہ تو انسانی تاریخ میں پہلی بار حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو یہ بتایا ہے کہ خدا نے تیرے یہ حقوق قائم کئے ہیں اور انسان کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ خدا کے ساتھ تعلق پیدا کرے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے لئے رحمۃ للعالمین کو مبعوث کر دیا۔اس مقصد کے لئے ہم کتابیں شائع کرتے ہیں۔ہماری کتب کے شائع کرنے کی اصل غرض