خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 358
خطابات ناصر جلد دوم ۳۵۸ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۸ء کیا یا مہدی کے زمانہ کا ، یا نہیں۔یہ دونوں اکٹھی چیزیں بن جاتی ہیں کیونکہ وہی اس کی علامات اور پیشنگوئیاں ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس رنگ میں کیا اور کس پیار سے کیا۔پھر بڑے ہیں کثرت سے جن سے یہ روایتیں مہدی کے آنے کے متعلق ہمیں نظر آتی ہیں۔پھر جو حدیث لکھنے والے ہیں ہمارے مثلاً اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہا جاتا ہے امام بخاری کی حدیث کی کتاب کو جو بخاری کے نام سے ہی معروف اور مشہور ہے۔انہوں نے اور صحاح ستہ چھ بہت ہی زیادہ ثقہ مجھی جانے والی اہل سنت کی کتب حدیث ہیں ان کے لکھنے والوں نے مہدی کا ذکر کیا۔پھر ہمارے بھائی اهل التشيع ہیں یعنی شیعہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے۔ان کی احادیث کی کتب میں بڑی کثرت سے ان کا ذکر آیا ہے۔وہ حوالے لئے جائیں یعنی اس ترتیب سے میں نے سوچا۔پھر مفسرین قرآن ہوئے ہیں۔انہوں نے کچھ اپنی سمجھ کے مطابق کچھ روا یتا اور روایتیں بہت کی جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی تھیں ان کی بنا پر انہوں نے تفاسیر لکھیں اور قرآن کریم کی بہت سی نہیں متعدد آیتوں کی تفسیر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ اس کا تعلق آنے والے مہدی معہود سے ہے۔یہ باتیں فلاں وقت پوری ہوں گی۔پھر صوفیاء ہیں ہمارے بڑے بزرگ اور ہر وقت خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے والے اور خدا تعالیٰ سے معجزات اور نشانات اور کرامات حاصل کرنے والے اُن کی کتابوں میں ہم نے اپنے بچپن میں سنا تھا۔میں نے کہا وہ بھی آپ کے سامنے رکھوں۔اس طرح یہ جب میں نے اکٹھی کیں تو یہ منتخب جو میں نے چنیں ویسے تو ہزاروں کی تعداد میں ہیں یہ حوالے کوئی دوسو کے قریب یہ میرے سامنے پڑے ہوئے ہیں۔یہ حوالے مجھے ملے۔اب یہ اتنا لمبا مضمون بن جاتا ہے۔میرے بعض ساتھیوں نے کہا کہ یہ آپ ختم کیسے کریں گے۔میں نے کہا اللہ تعالیٰ کوئی سامان پیدا کر دے گا۔میرے دماغ میں یہی تھا کہ میں یہ جو حدیث یا ان کا قول ہے اس کو بیان کرنے لگوں تو کل چار بجے تک بھی یہ ختم نہیں ہوگا۔یعنی اس وقت سے شروع کر کے ساری رات اور سارا دن بھی میں آپ سے گفتگو کرتا رہوں تب بھی یہ باتیں ختم نہیں ہوتیں بڑی وسعت ہے اس کے اندر تو کچھ کی تفصیل بتاؤں گا کچھ کے صرف نام بتاؤں گا۔بعض اور چیزیں جو ہمارے سامنے اس وقت آتی تھیں میں ان کا ذکر کروں گا۔مثلاً قرآن کریم سے اب میں لیتا ہوں قرآن کریم نے کچھ زبر دست پیشنگوئیاں کی ہیں اور اللہ تعالیٰ بھلا کرے ان لوگوں کا جنہوں نے خدا تعالیٰ سے پیار کیا اور اس کی نگاہ میں وہ پاکیزہ بنے