خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 339
خطابات ناصر جلد دوم ۳۳۹ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء لگ سکتی ہیں۔انگلستان میں قریب تھا کہ پریس ایک خرید لیں لیکن وقت کے اوپر توجہ اس طرف گئی تو وہ اچھا ہوا نہیں خریدا کچھ تھوڑا ہم نے جو بیانہ دیا وہ چھوڑنا پڑا لیکن بہر حال جو کام شروع ہی نہ کیا جائے وہ تو انتہاء کو پہنچ ہی نہیں سکتا۔ناممکن۔جو شروع کیا جائے شروع میں وہ ”جوں “ جس طرح رینگتی ہے اس طرح رینگے کی سکیم۔پھر جس طرح کچھوا چلتا ہے اس طرح چلے گی وہ سکیم پھر جس طرح خرگوش دوڑتا ہے اس طرح دوڑ نے لگ جائے گی، جس طرح نائیجیریا میں ہو گیا ہے باقی جگہ بھی ہو جائے گا اللہ نے بڑا ہی فضل کیا ہے اب اتنا اچھا چھاپ رہے ہیں، ان کا رسالہ ہے Truth۔ایک ہی مسلمان رسالہ جو وہاں چھپ رہا ہے اب غالبا ان کی سکیم ہے کہ اس کو روزانہ بھی کر دیں روز نامہ ہو جائے وہ لیکن ابھی تو غالباً ہفتہ وار ہے ہفتہ وار ، لیکن بڑا خوبصورت اپنے پریس میں چھپ رہا ہے اور ایک ہی نمائندہ ہے سارے نائیجیرین جہاں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے مختلف فرقوں کی وہ نمائندہ ان کا ایک ہی اخبار ہے اب شاید پچھلے ایک دو سال میں کوئی اور ہو گیا ہو تو میں کہہ نہیں سکتا لیکن بڑا لمبے عرصے تک صرف اس اخبار نے سب کی خدمت کی انہوں نے نائیجیریا نے Jesus in India بھی انگریزی زبان میں وہاں شائع کی ہے صلی اللہ علیہ وسلم Muslim Prayer Book, Life of Mohammad Shroud of Jesus, Atonement, سیرالیون میں تین نئی کتابیں اور پندرہ پمفلٹ شائع ہوئے انڈونیشیا میں مسئلہ زکوۃ ، ایک غلطی کا ازالہ کشتی نوح، اسلامی اصول کی فلاسفی ، تجلیات الہیہ، یہ کتا بیں انڈونیشین ، انڈونیشیا میں شائع کی گئیں۔اچھا تنزانیہ میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ ہوا۔ایک تنزانیہ کا ایک بہت مشہور شاعر افریقی و ہیں کا رہنے والا باشندہ اس نے سواحیلی زبان کی شاعری کے متعلق ایک کتاب شائع کی جو سواحیلی زبان وہاں بولی جاتی ہے ان تینوں ملکوں میں بڑی زبان جو ہے وہ سواحیلی ہے۔کینیا ، یوگنڈا اور تنزانیہ ( کیوں جی ! شیخ مبارک احمد صاحب یہ کا من ہی ہے نا انہوں نے بتایا کہ جی یہ کامن زبان ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے اچھی ترقی یافتہ زبان ہے سواحیلی زبان میں شاعر بھی بہت پیدا ہوئے ہوں گے۔اس شخص نے سواحیلی زبان کی شاعری کے متعلق ایک کتاب لکھی اور وہ شائع ہو چکی ہے اس میں سواحیلی اشعار کا ( یہ اچھے غور سے سنیں ) اس نے یہ احمدی نہیں ہے لیکن یہ محقق ہے )