خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 23 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 23

خطابات ناصر جلد دوم ۲۳ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء کہ کیا فیصلہ کروں۔بچہ ایک ہے اس کی دعویدار تم دو ہو، گواہیاں ایک جیسی مضبوط ہیں۔مجھے سمجھایا گیا ہے کہ میں اس بچے کے نصف سر سے آرے کے ساتھ دوٹکڑے کر کے ایک بازو۔ایک ٹانگ اور آدھا جسم ایک کو دے دوں اور آدھا حصہ دوسری کو دے دوں۔اس طرح بچے کے دو حصے کر کے تم دونوں میں تقسیم کر دیتا ہوں۔جب قاضی نے یہ فیصلہ سنایا تو بچے کی جو اصل ماں تھی وہ بے اختیار کہہ اٹھی۔قاضی صاحب ! یہ میرا بچہ نہیں۔اسے آپ دوسری عورت کو دے دیں۔قاضی نے کہا مجھے پتہ لگ گیا کہ یہ بچہ کس کا ہے چنانچہ اس نے بچے کو اس عورت کے سپر د کر دیا جو کہتی تھی کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے اس کے ٹکڑے نہ کریں۔جب اصل مامتا کا جذ بہ ظاہر ہو گیا تو اس بناء پر قاضی نے اس کو کہا کہ یہ بچہ تیرا ہے اس کو تو اپنے گھر لے جا۔پس یہ دنیا جو مختلف تحریکوں کی شکل میں نوع انسانی کی ماں ہونے کا دعوی کر رہی ہے یہ اب اس دنیا کو بانٹنے لگی ہے اور Compromises کے طریق پر چل نکلی ہے۔ایک دوسرے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ کچھ حصے ہمارے اثر ورسوخ میں رہنے دو اور کچھ تم اپنے پاس رکھ لو۔حالانکہ ہم ایسے لوگوں سے یہ کہتے ہیں کہ تمہارا دعویٰ ایک طرف تو یہ تھا کہ تم نوع انسانی کی ماں ہو اور سب انسانوں کو ایک خاندان کے طور پر اکٹھا کرنے کے لئے میدان میں آگے آئے ہو مگر دوسری طرف جب دیکھا کہ اس میں کامیابی نہیں ہو رہی تو اس قاضی کی طرح یہ کہنا شروع کر دیا کہ دنیا کو آدھا آدھا کر کے بانٹ لیتے ہیں۔پس موجودہ تحریکوں کے اس طرح باہمی طور پر Compromise کرنے یا مداہنت کا طریق اختیار کرنے یا اپنے دعاوی کو چھوڑ دینے اور اپنے اعلانوں کو پس پشت ڈال دینے حتی کہ اگر سو نہیں ملتا تو پچاس پر راضی ہو جانے کے رویہ نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ یہ لوگ دُنیا کے حقیقی خیر خواہ نہیں۔حقیقی خیر خواہ اسلام ہے۔وہی بنی نوع انسان کی ماں ہے کیونکہ اسلام کبھی Compromise کرنے کی تعلیم نہیں دیتا۔بانی اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ رحمۃ للعالمین ہونے کا دعوی ہے آپ نے اس دعوئی کے ذریعہ یہ اعلان فرمایا کہ خدا نے مجھے تمام عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔گویا تمام عالمین اور تمام بنی نوع انسان امت محمدیہ میں ایک نہ ایک دن شامل ہونے والے ہیں اور ایک خاندان بننے والے ہیں۔اس کے لئے