خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 321 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 321

خطابات ناصر جلد دوم ۳۲۱ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء کھانا ہے وہ روٹی ہے اور باقی تو گڑ کی روڑی لے لی زمیندار نے۔میں ان کے ساتھ شریک ہوا ہوا ہوں کبھی ہم باہر سیر کو جاتے ہیں کسی زمیندار کا کھانا آ جائے تو میری عادت ہے صرف علم بڑھانے کے لئے جاکے شامل ہو جاتا ہوں سلام کر کے ایک لقمہ تو ڑا۔تو مجھے بہت سے ایسے لوگ ملے ہیں جو سرخ مرچ کی چٹنی اور اتنی سی روڑی، اتنی سی کھجور جتنی اور یہ ان کا عیش ہے ایسے لوگ بھی ہیں۔تو ہم نے کہا کہ کوئی شخص بھوکا نہیں رہے گا جس وقت خدا پیسے دے گا جتنی دنیا سمجھتی ہے کہ ہمارے پاس پیسے ہیں اتنے تو پیسے نہیں ہیں ہمارے پاس اس سے زیادہ آجائیں گے۔ایک دن انشاء اللہ تعالیٰ اور پھر ساری ضرورتیں پوری ہو جائیں گی پھر وہ اقتصادیات اسلامی ضرورتیں پوری کر نے والا ہو گا۔جس شخص کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ اس کو ملنی چاہئے خدا کہتا ہے وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقُ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ ( الأريت : ۲۰) قرآن کریم کی یہ آیت ہے اور جب تک ہر فرد واحد کو اس دنیا میں اس کی جائز ضرورت جو میں نے بتایا ہے کہ چار قسم کی قوتیں اور استعداد میں ہیں۔ان کو مدنظر رکھتے ہوئے جو اس کی جائز ضرورت ہے اگر ایک آدمی بھی دنیا میں ایسا ہے جس کی جائز ضرورت پوری نہیں ہو رہی تو خدا کہتا ہے کہ کسی اور کے مال میں اس کا حصہ ہے جو اس کو ادا نہیں ہوا اور غصب کیا گیا ہے اس کا حصہ۔کیونکہ پیدا کرنے والے نے پیدا کی، یورپ اور امریکہ نے تو دنیا کی دولت نہیں پیدا کی، پیدا تو خدا نے کی ہے۔بہر حال جو بڑے شرمسار ہو کر اور بڑے دکھ اٹھاتے ہیں ہم جب سوچتے ہیں کہ کیا ہم نے مدد کی اپنے بھائی کی لیکن چونکہ نہیں ہیں پیسے اس لئے اور کچھ کر نہیں سکتے اس کی ، اس ہمارے ملک کے لحاظ سے تھوڑی سی رقم تو یہ بن جاتی ہے۔بہر حال اس کا ٹوٹل بنتا ہے بارہ لاکھ بارہ ہزار دو سو چھپن روپے جو مثلاً سال رواں میں ہم نے تقسیم کی ہے۔لیکن اس رقم میں سارے کارکنوں والی رقم شامل نہیں بلکہ ایسے ہمارے احمدی دوست جو کارکن نہیں ہیں جماعت کے، مثلاً روڑی کوٹ رہا ہے وہ سامنے پہاڑ ہے اس کے اوپر بہت سارے کارخانے کام کر رہے ہیں۔روڑی کوٹنے کے بعض احمدی بھی کام کر رہے ہیں۔تو دو طرح ان کی مدد کرتی ہے خدا کے فضل سے جماعت۔اگر مجھے پتہ لگ جائے تو کوئی ایسا نہیں آدمی جس کی مدد نہ کی گئی ہو۔ایک تو یہ کہ بیمار ہو گیا بیچارہ وہ مزدوری کرتا تھا کھا رہا تھا جب بیمار ہو گیا کیا کرے گا۔اس کی ضرورت کے مطابق اس کو اندازہ کر کے ہم دے