خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 320
خطابات ناصر جلد دوم ۳۲۰ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء ساری تنخواہ تو اس کے بوٹوں کے اوپر خرچ ہو گئی وہ کھائیں گے کیا اس مہینے میں؟ بہر حال یہ ویسے ساری دنیا میں ہے۔صرف ہمارے ملک میں نہیں یہ جو مہنگائی کا ایک ایسا چکر چلا ہے کہ ہر جگہ یورپ میں بھی مصیبت پڑ گئی ہے اور سمجھ نہیں آ رہی دنیا کو کہ اس کا حل کیسے کیا جائے ہم نے یہ کوشش کی دنیا تو یہ نہیں کرتی اور میں یورپ میں اپنی پریس کا نفرنسز میں اسلام کی یہ تعلیم بتا تا ہوں بڑے حیران ہوتے ہیں اور اپنا عمل بتاتا ہوں میں کہہ دیتا ہوں کہ جتنا ہمیں کرنا چاہئے ہمارے پاس دنیوی وسائل اتنے نہیں ہیں جتنا میرا دل کرتا ہے۔میرا دل تو یہ کرتا ہے کہ اچھا اب بوٹ ہے، بیچ میں ضمناً بات میں کر رہا ہوں ایک وہ بھی بوٹ ہے ساٹھ ، ستر روپے میں آنے والا جو پندرہ دن کے بعد بچہ تو ڑ دیتا ہے یا ایک مہینے کے بعد توڑ دیتا ہے اتنا ناقص بنا ہوا ہے قیمتیں زیادہ ہیں مال ناقص ہے جس کا مطلب ہے کہ سال میں بارہ اس کو جوڑے چاہئیں بوٹوں کے جو نتیوں کے یا چھ چاہئیں اگر دو مہینے چلے لیکن یورپ میں ان سے زیادہ مہنگی ہیں لیکن ان کی تنخواہیں بھی بہت زیادہ ہیں جو شخص یہاں مثلاً پانچ سو روپیہ کمارہا ہے اس کے ساتھ کا مزدور جرمنی میں کوئی پانچ دونی دس ہزار روپے سے بھی زیادہ کما رہا ہے وہاں بعض اچھی جو کمپنیاں ہیں وہ پانچ سوروپے میں بوٹ دیتی ہیں اور بڑے اچھے یعنی پانچ سو روپے میں وہ جو بوٹ دیتی ہیں میں نے بھی ان کا خرید کے استعمال کیا ہے وہ چھ سات سال تک نہیں پھٹتا اور کام دیتا ہے جو بوٹ اس وقت میں نے پہنا ہوا ہے۔وہ بھی ۱۹۷۳ء میں خریدا تھا میں نے ، اور آج میں پہن کے وہ یہاں آیا ہوا ہوں اور یہاں پاکستانی بنا ہوا کوئی بوٹ بھی کسی کے پاؤں میں نہیں ہو گا آج ، جو ۱۹۷۳ء میں اس نے خریدا ہوا ، ایک سال پہلے بھی ، اتنا ، سال بھی نہیں گذرا ہوگا یعنی یہ فرق ہے اور تنخواہیں کم جو آمد کے ذریعے خالی تنخواہ نہیں ، وہ کم۔سوائے اس کے جن کی تجارت چمک اٹھے۔باقی تو چھوٹے چھوٹے تاجر جو ہیں پانچ سو ، ہزار دو ہزار تک بھی مہینہ کمانے والے وہ بڑی مشکل سے گزارہ کر رہے ہیں ہم نے یہ سوچا کہ کہنے والے نے تو کہا تھا نا کہ۔ہے جہاں میں نان شعیر پر مدار قوت حیدری کہ کم از کم اتنا دے دیں آٹا کہ کوئی شخص بھوکا نہ رہے۔ہمارے ملک میں اس وقت بھی میرا اندازہ ہے کہ ایک کروڑ سے زیادہ انسان ایسا ہوگا جو چٹنی کے ساتھ روٹی کھاتا ہے یعنی اس کا اصل جو