خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 319
خطابات ناصر جلد دوم ۳۱۹ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء رکھتے ہوئے جماعت کی طرف سے یہ انتظام کیا جاتا ہے کہ جماعت کے کارکن صدر انجمن احمد یہ کے اور تحریک جدید کے اور دوسرے شعبوں کے جو ہیں ان کو کھانے کے لحاظ سے کافی مدد دے دی جائے ، علاوہ جو گزارہ وہ لے رہے ہیں۔مثلاً سارے سال کی گندم کی ضرورت کا اندازہ جماعت نے یہ لگایا کہ اگر آدھ سیر روزانہ فی کس ہو تو ساڑھے چار من آنا چاہئے سارے سال کے لئے اگر آدھ سیر روزانہ ہو اور اس کے لئے سارے جو خاندان کے افراد ہیں ان کے لحاظ سے یہ نہیں کہ ہر ایک کو ایک جیسے پیسے گندم کی مدد میں دے دو۔یعنی اگر ہمارا ایک کارکن میاں بیوی ہیں صرف تو ان کونومن گندم کا ایک حصہ اور اگر اس کے چھ بچے بھی ہیں تو آٹھ چوکے بتیس اور چار چھتیں من گندم کا وہ مقر رحصہ جو ہے جو ابھی میں بتا تا ہوں آپ کو کیا ہے اتنا گندم کے لحاظ سے اس کو دے دیا جاتا ہے اور وہ ساری ضرورت کا نصف یعنی ساڑھے چار من گندم میں سے دو من دس سیر گندم جماعت احمد یہ اپنے کارکنوں کو بغیر قیمت لے کے دے دیتی ہے سال کے شروع میں کہ اسے رکھو تا کہ تمہارے او پر کھانے کے لحاظ سے کبھی تنگی نہ آئے اور جو بقیہ نصف ہے ضرورت گندم کی کا اس کو خرید کے سٹور کرنے کے لئے سال کے شروع میں جب عام طور پر گندم سستی ہوتی ہے قرض دے دیا جاتا ہے جو ان کی تنخواہ میں کتا جاتا ہے۔اسی طرح سردیوں میں بعض ضرورتیں زائد آ جاتی ہیں گرمیوں میں تو بڑے ہلکے کپڑے ہیں اور غذا کا بھی فرق ہے۔بہر حال بہت سارے فرق ہیں جن میں جانے کی ضرورت نہیں۔تو ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے جو ہماری اس وقت طاقت ہے اس کے مطابق ہم نے اس سال اپنے کارکنوں کو فی کس افراد ہر خاندان کے ہر فرد کے پچھتر روپے دیئے ہیں یکمشت یعنی اگر دس افراد پر مشتمل ہے خاندان تو اس کو سات سو پچاس روپیہ زائد مل گیا کہ تا کہ سردیوں کی ضرورتیں وہ پوری کریں۔میں جانتا ہوں کہ یہ بہت کم رقم ہے کیونکہ ہمارے ملک میں مہنگائی اتنی بڑھ چکی ہے کہ مجھے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے سوچ کے کہ کس طرح گزارہ کرتا ہوگا پاکستانی ان تنخواہوں پر جو گورنمنٹ بھی دیتی ہے۔یعنی ہم تو گزارہ دیتے ہیں نا ، گورنمنٹ تو اپنے شاہانہ جو بادشاہ ہیں اس ملک کے وہ شاہانہ طریق پر دیتے ہیں وہ بھی گزارہ نہیں کر سکتے عام ایک بوٹ درمیانہ درجے کا بچے کے لئے ساٹھ ، ستر اسی روپے کا اب جس کو تم پانچ سو روپیہ تنخواہ دیتے ہو اور سمجھتے ہو ہم نے بڑا تیر مارا اور بہت کچھ دے دیا اگر اس کے دو تین بچے ہیں تو ایک مہینے کی