خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 21 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 21

خطابات ناصر جلد دوم ۲۱ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء فرمایا۔لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (الصف : ١٠) تمام دنیا پر اسلام غالب آئے گا اور تمام ملکوں پر تو حید کا جھنڈ الہرائے گا۔اس وقت جماعت احمد یہ ایک کمزور جماعت ہے اس میں کوئی شک نہیں۔اس وقت دنیا داروں کی نگاہ میں جماعت احمد یہ ایک دھتکاری ہوئی جماعت ہے اس سے بھی ہم انکار نہیں کرتے۔اس وقت جماعت احمدیہ کو کوئی سیاسی اقتدار حاصل نہیں اور نہ اس کے دل میں سیاسی اقتدار کی خواہش ہے۔لیکن اس بات سے بھی نہ ہم انکار کرتے ہیں اور نہ لوگوں کو انکار کرنا ہو گا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق نوع انسانی نے صرف جماعت احمدیہ کی کوششوں کے نتیجہ میں اور مہدی معہود کی قائم کردہ جماعت کے ذریعہ امت واحدہ بن کر ایک خاندان بن جاتا ہے۔دوسری کوئی تحریک اس میں کامیاب نہیں ہوگی۔رحمۃ اللعالمین کو عملاً رحمۃ للعالمین ثابت کرنے کے لئے ہماری تمام کوششیں اور ہماری زندگی کا ہر سانس وقف ہے۔اس کے بغیر تو زندگی میں ہمیں کوئی مزہ ہی نہیں آتا نہ مجھے مزہ آتا ہے۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جماعت میں سے کسی کو بھی مزہ نہیں آتا ہو گا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے جُدا ہو کر ہماری زندگی زندگی ہی نہیں رہتی۔خدا تعالیٰ کی طرف پیٹھ پھیر کر ہمیں زندہ رہ کر کیا کرنا ہے۔ہماری زندگی کا لطف تو ہمارے اس احساس میں ہے کہ ہماری تمام کمزوریوں اور کوتاہیوں اور غفلتوں اور گناہوں کے باوجود خدا تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی اور خدا نے بڑے پیار کرنے والے باپ کی طرح اور پیار کرنے والی ماں کی طرح ہمیں اُٹھایا اور اپنی گود میں بٹھا لیا۔کل میں نے بتایا تھا کہ ۱۹۴۷ء میں سکھوں اور ہندوؤں نے مسلمانوں کو جن میں ہم بھی شامل تھے، گھروں سے نکال دیا اور ہمارا سب کچھ لوٹ لیا تھا لیکن وہ ہمارے ہاتھ میں کشکول نہیں پکڑوا سکے تھے اس لئے کہ ہمارا ہاتھ تو اللہ تعالیٰ کے اُس ہاتھ میں ہے جس میں دُنیا کے سارے خزانے ہیں۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ہو گا تو وہی جس کا اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر چھوڑا ہے اور وہ فیصلہ یہی ہے کہ وہ مہدی معہود کی جماعت کے ذریعہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو دُنیا میں غالب کرے گا۔اس لئے ہم پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ہمیں قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ہمیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال کو پیش کرنا پڑتا ہے۔ہمیں اپنی اولا د کو خدا کے حضور