خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 303 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 303

خطابات ناصر جلد دوم ٣٠٣ اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء بھی ہے اسلام اقتصادیات بھی ہے، اسلام معاشرہ بھی ہے اسلام جمہوریت نہیں اور اسلام یہ جو آجکل کی مغربی ممالک کی اقتصادیات ہیں وہ نہیں۔اسلام کی اپنی سیاست ہے اس کے اپنے اصول ہیں اسلام کے اپنی اقتصادیات کے اصول ہیں۔اسلام میں خدا تعالیٰ نے انسان کے جو حقوق قائم کئے ہیں ان کا بتایا ہے انسان کو ، یہ بتایا ہے کہ جو تمہیں طاقتیں اور قوتیں دی گئی ہیں ان کی اس رنگ میں نشو و نماتم کر سکتے ہو۔انسان کو یہ بتایا ہے اگر تم ہمارے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہماری امانتیں ہمیں واپس کر دو گے یعنی اپنی قوتوں کا استعمال اس طرح کرو گے جس طرح ہم چاہتے ہیں تو ہم تمہیں زمین سے اٹھا کے آسمانوں تک لے جائیں گے تم ہمارے مقرب بن جاؤ گے۔تمہیں وہ نعمتیں ملیں گی جو اسلام کا وعدہ ہے تمہیں وہ نعمتیں ملیں گی کہ پہلے آنے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آنے والے کسی نبی کی امت کو وہ نہیں ملیں۔یہ بشارتیں ہیں میں آپ کو مخاطب کروں گا آپ میرے پیارے میرے سامنے بیٹھے ہیں مجھے دوسروں سے یہ ہمدردی ہے کہ آپ کے ہاتھ سے انہیں کوئی دکھ نہ پہنچے مجھے ان سے یہ ہمددردی ہے کہ پیار کے ساتھ اور محبت کے ساتھ جہاں اپنی سمجھ کے مطابق احمدی کو اصلاح کا کوئی معاملہ کوئی مسئلہ نظر آئے وہ مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے۔مجھے اس چیز سے تعلق ہے کہ جو یورپ کا غریب اپنے حقوق کو جانتا ہی نہیں اور جو کچھ اپنے پاس ہے وہ بھی اپنے ان حقوق کے لئے جو اس کے ہے ہی نہیں اس سے کہیں زیادہ حقوق ہیں اس کے ان پیسوں کو وہ ضائع کرتا رہتا ہے اس کے وہ پیسے ضائع نہ ہوں جو اسلام نے حقوق قائم کئے ہیں لیبر کے، جو اس نے حقوق قائم کئے ہیں سرمایہ دار کے، وہ سارے ہر ایک کو اس کا حق ملنا چاہئے کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے اور آپ کو میں مخاطب کرتا ہوں اس لئے کہ آپ نے خدا تعالیٰ کے ایک بندے نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرزند نے ، ایک آپ کے اتنے پیار کرنے والے نے کہ آپ کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ اے میرے سردار میں تو ادنی غلام ہوں تیرا۔ان کی طرف آپ منسوب ہوتے ہیں ان کی بیعت کی خدا نے توفیق دی ہے آپ کو ، ان کے او پر جو ذمہ داریاں ڈالی گئی تھیں جو اکیلا آدمی کر نہیں سکتا۔ان کو وعدہ دیا گیا تھا کہ تجھے ایک جماعت دیں گے جو یہ کام کیا کرے گی اس واسطے یہ جو بنیادی چیز ہے اسلام کی کہ کسی شخص سے کبھی کوئی اس کا حق چھینا نہیں ، غصب نہیں کرنا اس کا حق توڑ مروڑ کے پرے نہیں پھینک دینا۔اس کی صحت کے