خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 268 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 268

خطابات ناصر جلد دوم ۲۶۸ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء زندگی میں کون انسان سیکھتا ہے لیکن بہر حال تھوڑا بہت دو مہینے کم ہیں لیکن کچھ سیکھیں گے اور اپنی جماعت کی تربیت ان کی واقفیت کے لئے نماز کے ارکان ہی ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو اپنا طریق تھا ناں وہ ضروری نہیں یعنی آگے فقہا نے وہ کیا ہے تھوڑا یا بہت وہ، آپ کا اپنا ایک طریق تھا وہ بڑا پیارا ہے وہ ان کو بتایا جائے اس طرح کریں اور مثلاً جہاں اونچی تلاوت کی جاتی ہے آپ نے دیکھا ہو گا کہ اکثر جوامام الصلوۃ ہیں وہ سورۃ الناس کی اگر تلاوت کی ہے تو والناس کے ساتھ ہی اللہ اکبر کر کے رکوع میں چلے جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ ایک چھوٹا سا وقفہ دیتے تھے اور پھر اللہ اکبر کہہ کے جاتے تھے بڑی باریکی ہے لیکن اس میں بڑی حکمت ہے اسی طرح اور بہت ساری باتیں ہیں غالباً بخاری میں کہیں ، مجھے یاد ہے پوری تفصیل سے آپ کی نماز کا نقشہ الفاظ میں کھینچا ہوا ہے۔وہ ان کو دینا چاہئے ہمارے احمدی کی نماز اس طرح ہونی چاہئے جس طرح ہمارا محبوب نماز پڑھتا تھا صلی اللہ علیہ وسلم ، بہر حال ان کی ضرورت کے مطابق ان کو لٹریچر مہیا کیا جانا چاہئے اور رضا کار معلمین جو ہیں ان کو بھی اسی (میں بات کر رہا تھا لیکن میں واپس لوٹ گیا ہوں) ان کو بھی زیادہ تر اسی قسم کے لٹریچر کی ضرورت ہوگی دو مہینے کے لئے۔اور پھر یہ ہے کہ مثلاً بہت سارے ایسے مسائل ہیں جن میں مختلف اسلامی فرقوں نے آپس میں اختلاف کیا ہے ہم نے بھی کیا تو ہمارا جو ہے عقیدہ اس کے حق میں ہمارے پاس سو دلیل ہے۔دو مہینے میں ہر ایسی بات کی سود لیلیں تو ہم کسی کو نہیں دکھا سکتے تو جو وزنی اور زیادہ مضبوط دلیلیں اور عام فہم دلیلیں ہیں ان کا انتخاب کر کے ہم دو دلیلیں سمجھا دیں گے اور وہ ایسی دلیل ہو بنیادی جو توڑی نہ جا سکے اور عام فہم طریقے سے ہو تو پھر اگلا علاج آپ ہو جائے گا سوچنا پڑے گا کم از کم کہ کیا بات ہے بہر حال تو یہ جو ہے رضا کار معلمین دو مہینے کے قرآن کریم نے اس کی ضرورت کو واضح کر کے اس کا مطالبہ کیا ہے اور قرآن کریم کہتا ہے وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً (التوبة: ۱۲۲) یہ تو نہیں ہو سکتا تھا کہ لاہور کی ساری جماعت دین سیکھنے کے لئے ربوہ آجائے۔میں نے یہ مثال دے کے ترجمہ کیا ہے کہ یہ تو نہیں ہوسکتا تھا کہ سارے کے سارے کسی ایک جگہ کے علم سیکھنے کی جگہ دین کا علم سیکھنے کے لئے آجائیں تو کیوں نہ یہ کیا گیا آسان طريق فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَابِفَةٌ (التوبۃ:۱۲۲) کہ ہر جگہ کے گروہ میں