خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 262
خطابات ناصر جلد دوم ۲۶۲ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء اس کو علم کا شوق ہے اور دوسرے اس علم کے ساتھ اس کو یہ شوق بھی ہے کہ جب دینی تعلیم کے حصول کے مواقع اسے میسر آئے تو وہ ان سے فائدہ حاصل کرے۔لیکن لڑکے ہو سکتا ہے ان کے حالات مختلف ہیں کسی کو نوکری مل گئی وہاں چلا گیا کسی کو نوکری کی تیاری کے لئے وقت دینا پڑا وغیرہ وغیرہ لیکن فرق یہ اتنا ہے کہ میں جماعت کے بی۔اے کے احمدی طالب علموں کو کہوں گا کہ تمہاری جگہ مجھے بڑی شرم آئی، تو اس شرم میں تھوڑا سا تم بھی شریک ہو جاؤ اور اگلی دفعہ زیادہ آنا۔یہ جو تعلیم القرآن ہے ناں یہ تو ہماری جان ہے قرآن کریم سیکھنا اور پھر اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرنا لیکن پہلا قدم تو سیکھنے کا ہے ناں۔اس لئے یہ میری تجاویز ہیں اور نظارت اس کی طرف توجہ کرے اور افراد جماعت بھی اور جماعتوں کا نظام بھی کہ ہر جماعت میں تعلیم القرآن کے کام کی نگرانی کے لئے ایک انتظامیہ کمیٹی بنادی جائے اور بہتر یہ ہوگا کہ اس میں جو عہد یدار ہیں منتخب یا دوسرے مستقل کام کرنے والے وہ کم ہوں اور جو غیر عہدیدار ہیں محلے محلے میں وہ زیادہ ہوں تا کہ وہ رضا کارانہ طور پر اس طرف زیادہ وقت دے کے اور کام کی طرف توجہ دیں اور یہ انتظامیہ کمیٹی جو ہے یہ کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم وقت میں قرآن کریم کا ترجمہ سکھنے کا انتظام بھی ہو اور جماعت قرآن کریم کا ترجمہ سیکھ بھی جائے عملاً۔دوسرے اس سلسلے میں وہ یہ کام کریں کہ جو یک ایک پارہ حفظ کرنے کی تحریک ہے اور اس میں نوجوان اور بڑے سارے بیچ میں حصہ لے سکتے ہیں کوئی ایسی بات نہیں توجہ کی بات ہے نہ کوئی وقت خرچ ہوتا ہے نہ پیسہ مفت کا ثواب ہے قرآن کریم کی برکتیں ملتی ہیں ایک پارہ حفظ کر لینا کوئی ایسی بات نہیں ہے آخر وہ بھی تو ہیں جو تمھیں تمہیں پارے حفظ کر کے پھر رہے ہیں آپ کی طرح آپ پہچانتے بھی نہیں ہوں گے ان کو ، کوئی ان کو نقصان تو نہیں پہنچا۔تو شاید چہرے پر نور زیادہ آ گیا ہو لیکن نقصان بہر حال کوئی نہیں پہنچا اس میں حصہ دار بنیں۔ایک اسی تعلیم القرآن کے اندر ہی آتا ہے، تحریک وقف بعد از ریٹائرمنٹ ایک سو پچپن مختلف کام کرنے والوں نے اس تحریک میں اپنے آپ کو پیش کیا ہے لیکن جو انتظام کرنا ہے وہ یہ ہے کہ جو بعد از ریٹائرمنٹ خود کو وقف کرتا ہے وہ سارا عرصہ پھر خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ کرے تا کہ جس قسم کا ہم اس سے کام لینا چاہیں اس کا اہل بھی ہو یہ تو نہیں کہ کہے جی