خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 258 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 258

خطابات ناصر جلد دوم ۲۵۸ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء انگلستان سے بھی۔تو کوشش یہ کر رہے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی تعلق ہو جائے ہمارا۔اور پھر وہاں سے کتابیں شائع کر کے تو اس کو مرکز بنایا جائے۔اور وہاں سے وہ دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف زبانوں میں جہاں انگریزی بولنے والے جو ملک ہیں مختلف وہاں ان کو بھیجا جائے۔یہ نمبر ایک ہے کہ جو موجود ہیں دنیا کے پریس ان کو اسلام کی خدمت میں لگانے کی کوشش کی جائے۔اسلام کے قرآن کریم کے تراجم اور دوسری کتب شائع کی جائیں اور دوسرے امریکہ میں جو اصل اور انگلستان میں پریس لگانے کی سکیم ہے انشاء اللہ ابھی جو وفد آیا ہے امریکہ سے وہ سارا لٹریچر، میں نے ان کو ہدایت کی تھی۔پچھلے سال ساتھ لے کے آئے تھے قیمتیں پریس کی ، اور جگہ کہاں ہو اور کیسی عمارت چاہئے وغیرہ وغیرہ۔ابتداء تو تھوڑی چیز سے کرنی چاہئے کیونکہ بتدریج ایک نظام کائنات میں چل رہا ہے سال دو سال کے بعد جب تجربہ ہو جائے پھر بڑے پریس بھی آجائیں گے۔کام بڑھ جائے گا۔مشورہ ان سے کر لیا ہے انشاء اللہ وہ کام بڑی جلدی شروع ہو جائے گا۔چھوٹا ،لیکن بڑے پیمانے پر دو چار سال کے اندر شروع ہو جائے گا۔اصل تو میں نے امریکہ کو کہا تھا میرے دل میں تڑپ ہے اور آپ کے دل میں بھی اگر یہ تڑپ پیدا ہو جائے اور سارے مل کے دعا کریں تو شاید بڑی جلدی ہم اس میں کامیاب ہو جائیں کہ پہلے مرحلے پر دس لاکھ ، ایک ملین قرآن کریم کے تراجم امریکہ میں تقسیم کئے جائیں اور وہ سوچ بھی رہے ہیں سکیم بھی بنارہے ہیں اور یہ کوئی ایسی مشکل بات نہیں کیونکہ ہم نے جو اندازہ پچھلے سال لگایا تھا کہ امریکہ میں سارے امریکہ میں چھوٹی اور بڑی لائبریریاں وہاں ہر سٹریٹ میں ، ہر گلی میں، چھوٹی سی لائبریری ہوتی ہے۔اور شہر میں بڑی لائبریری بھی ہے تو وہاں کی میرے خیال میں چھوٹی بڑی ۶۰ لاکھ سے زیادہ ہیں اور اگر فی لائبریری ایک قرآن کریم کا ایک ترجمہ بھی ہم شروع میں رکھنے کی کوشش کریں ہمت کرنی پڑے گی وقت دینا پڑے گا زور لگانا پڑے گا۔دوسرے کو قائل کرنا پڑے گا کہ پیسہ خرچ کرو اور خرید کے دس لاکھ قرآن رکھ لیں۔تو ہم ہیں لاکھ قرآن، مزید قرآن اسی پیسے سے بھی شائع کرنے کے قابل ہو جائیں گے تو خدا کرے کہ جلد ایسا ہو جائے۔مغربی افریقہ میں اسلام کی روکافی تیز ہو گئی ہے لیکن بعض اقتصادی الجھنیں ان ملکوں میں ایسی پیدا ہو رہی ہیں جو ہوسکتا ہے کہ ہمارے رستے میں کچھ روک پیدا کریں یا ہو سکتا ہے کہ نہ کریں واللہ اعلم۔بہر حال ان ملکوں کے