خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 242
خطابات ناصر جلد دوم ۲۴۲ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء لئے اور اب اس چیز کے متعلق اب میر اعلم کامل ہو گیا ہے اس سے زیادہ نہیں ہو سکتا آپ پ نے فرمایا ہے کہ خشخش کا دانہ بڑی چھوٹی سی چیز ہے اس کے متعلق بھی انسان کا علم اپنی انتہا کو نہیں پہنچ سکتا۔اس زمانہ میں رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا کے ساتھ ایک اور دعا بھی ہمیں سکھائی گئی اور وہ ہے رَبِّ أَرِنِي حَقَائِقَ الْأَشْيَاء (التذکرہ: صفحہ ۶۱۳ ) وہ اس کی رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا کی تفسیر کے طور پر بِرَبِّ اَرِنِى حَقَائِقَ الْاَشْيَاءِ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعے دعا سکھلائی اس لئے کہ یہ زمانہ کچھ عجیب سا بن گیا ہے علم علم کے لحاظ سے، جو تو ٹھوس علوم ہیں سائنسز ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ بہت کچھ حقیقتیں معلوم ہو جاتی ہیں ان میں بھی حقیقتیں معلوم نہیں ہوتیں اور انسان جتنا اپنے علم میں ہر سال اضافہ کرتا ہے اتنا ہی اس کی غلطیاں جو اس نے پہلے سالوں میں کی ہوتی ہیں وہ آشکار ہو کے اس کے سامنے آ جاتی ہیں یعنی جن کو وہ حقائق سمجھتارہا تھا وہ حقیقت نہیں رہتی باقی۔سینکڑوں مثالیں ہمارے سامنے آتی ہیں، کئی میں پہلے بتا بھی چکا ہوں ایک نئی چیز یہ آئی سامنے، کہ ۱۹۷۵ء میں جب میں بیمار ہوا اور انگلستان گیا چیک اپ کروانے کے لئے تو وہاں کے چوٹی کے ماہر نے مجھے یہ مشورہ دیا، ( مجھے تھوڑی سی تکلیف ذیا بیطیس کی بھی ہے تو انہوں نے مجھے مشورہ دیا) کہ ڈیا بنیز (Diabeneze) یہ اس کی ایک دوا ہے وہ مجھے موافق آئی ہوئی تھی وہ زیادہ خوراک میں کھانے کی بجائے ، ۲۵۰mg کھانے کی بجائے ۱۰۰mgالیس اور ایک اور دوائی وہ نہار کھانی پڑتی ہے ناشتے کے بعد ڈائیووٹین (Diowotin) ایک اور دوائی ہے وہ ۵۰۰mg کی لے لیا کریں اور اس کی زیادہ کھانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔خیر وہ انگلستان کے چوٹی کے ماہر کا مشورہ تھا میں نے اس پر عمل کرنا شروع کر دیا یہ ۱۹۷۵ء کی بات ہے اور ۱۹۷۷ء یعنی اس کو سمجھو دوسرا سال ہوا تھا کہ وہاں سے مجھے خط آنے شروع ہوئے کہ نئی تحقیق یہ ہے کہ ڈائیوٹین جو انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ ناشتے کے بعد کھاؤ اور بہت اچھی دوائی ہے وہ زہر ثابت ہوئی ہے فوراً چھوڑ دیں کیونکہ اس سے موتیں واقع ہونا شروع ہوگئی ہیں۔تو یہ کہنا مشکل ہے کہ آج کا سائنسدان نئی ایجادات زیادہ کرتا ہے، یا اس کے علم میں یہ اضافہ زیادہ ہوتا ہے کہ جو پہلی تحقیقات میں اس نے سچ سمجھا تھا وہ سچ نہیں بلکہ غلط بات ہے ،حق نہیں بلکہ باطل ہے اور اس سے بھی زیادہ خطر ناک آج کے زمانہ میں یہ تحقیق ہوگئی ہے غیر سائنسی علوم جو ہیں ان