خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 239
خطابات ناصر جلد دوم ۲۳۹ افتتاحی خطاب ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۷ء کرتے رہیں۔پھر وہاں ہمارے وہ ایثار پیشہ بزرگ دفن ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں مالی اور دوسری قربانیاں دیں۔ان کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں۔اسلام ایک بڑا عظیم مذہب ہے۔اس نے دعا کے لئے کسی جگہ یا وقت کی تعیین نہیں کی۔انسان ہر وقت اور ہر جگہ دعا کر سکتا ہے۔بعض چھوٹے چھوٹے استثناء ہیں جو اس قابل بھی نہیں کہ ان کا ذکر کیا جائے۔بہر حال ہر وقت دعائیں کریں۔دل میں دعائیں کریں۔دوسروں کو دعائیں دیں۔ہمارے مبلغین جو باہر گئے ہوئے ہیں ان کے لئے دعائیں کریں۔اپنے لئے دعائیں کریں۔اپنے نفس کے لئے دعائیں کریں۔اصل میں تو اگر احمدیت کی طرف منسوب ہونے والا ہر نفس خدا کی نگاہ میں پاک اور مطہر بن جائے تو پھر ہمیں اور کیا چاہئے۔ہمیں تو خدا تعالیٰ کا پیار چاہئے۔خدا کرے کہ ہم میں سے ہر ایک کو خدا تعالیٰ کا پیار حاصل ہو جائے۔فرشتے ہر ایک پر خدا تعالیٰ کی رحمتیں لے کر نازل ہوں۔ہمارے بچوں پر بھی اور ہمارے بڑوں پر بھی۔ہمارے مردوں پر بھی اور ہماری عورتوں پر بھی۔خدا تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں۔پس اپنے اوقات کو ضائع نہ کریں۔دعاؤں میں اپنا وقت خرچ کریں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ کل شام کی رپورٹ کے مطابق پچھلے سال سے دو ہزار کے قریب عورتیں زیادہ تھیں اور سترہ ہزار کے قریب مرد زیادہ تھے۔مجھے بڑی کثرت سے یہ دعا کرنے کا بھی موقع ملا کہ خدا تعالیٰ نے جس طرح گزشتہ سالوں میں دو جلسوں کے موقع پر بادل اور ہوا اور بارش اور سردی سے آزمایا تھا اور ان کا امتحان لیا تھا اور سرخرو کیا تھا۔اسی طرح اب بھی میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ ! تو نے امتحان لیا اور یہ تیرا ہی فضل تھا کہ جماعت امتحان میں پوری اتری اور اب ہمیں دھوپ دے تا کہ ہم دھوپ میں بیٹھ کر جلسہ سنیں اور تیرا شکر ادا کریں۔چنانچہ اب بھی اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا میں تو خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ ہوں۔مجھ پر خدا کے اتنے احسان ہیں کہ میں تو سمجھتا ہوں اس کے ایک احسان کا بھی ساری عمر شکر ادا کرنے اور الحمد پڑھنے کی کوشش کرتارہوں تب بھی شکر ادا نہیں ہوسکتا۔کل ظہر وعصر کی نمازیں پڑھانے کے لئے جب میں مسجد مبارک میں گیا تو اس وقت میں نے دیکھا بادل ہیں اور ہلکی سی بوندا باندی بھی ہو رہی ہے تو نماز ہی میں خدا نے مجھے دعا کرنے کی