خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 240 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 240

خطابات ناصر جلد دوم ۲۴۰ افتتاحی خطاب ۲۶ دسمبر ۱۹۷۷ء توفیق دی۔چنانچہ نماز بھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ بادل چھٹ گئے اور دھوپ نکلنی شروع ہوگئی۔پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا فضل ہے لیکن ہم اس کے بندے ہیں۔اگر وہ اپنی رحمت کی بارش سے ہمیں نوازے تب بھی الحمد للہ اور اگر اپنی دھوپ کی گرمی سے ہم پر احسان کرے تب بھی الحمد للہ ! خدا تعالیٰ کا شکوہ کیوں ہو جس نے ہم پر اتنے احسان کئے اور اتنی نعمتیں نازل کیں کہ ان کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔پس باہر سے آنے والے بھائیوں اور بہنوں کو بھی اور ربوہ کے مکینوں کو بھی جلسہ سالانہ کے ان مبارک ایام میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہئے۔یہ ایک قافلہ ہے جو بڑھتا چلا جاتا ہے تعداد کے لحاظ سے بھی اور بڑھتا چلا جاتا ہے قربانی اور اخلاص کے لحاظ سے بھی۔جماعت احمد یہ میں مجموعی طور پر اخلاص اس قدر ترقی کر گیا ہے کہ دنیا اس کو سچ سمجھنے کے لئے تیار نہیں۔وہ کہتے ہیں یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جماعت احمدیہ جیسی غریب جماعت غلبہ اسلام کے لئے اتنی بڑی قربانیاں دے دے۔ہم نے اگر ان کے لئے قربانیاں دینی ہوتیں تو ان کو سمجھاتے کہ اس طرح ہم قربانیاں دے رہے ہیں۔ہم تو اپنے خدا کی رضا کے حصول کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں اس لئے ہم ان کے اعتراضات کو سنتے ہیں اور مسکرا دیتے ہیں اور اپنے خدا کے سامنے جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدایا! تیرا یہ بھی احسان ہے کہ تو لوگوں کے سامنے ہماری قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔پس بعض دفعہ شیطان اس طرح بھی بعض لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال دیتا ہے۔اللہ تعالی شیطانی وساوس سے ہمیں محفوظ رکھے اور نواہی سے بچنے کی ہمیں توفیق دے اور اوامر پر عمل کرنے کی ہمیں طاقت عطا فرمائے اور اپنے فضلوں اور رحمتوں کا ہمیں وارث بنائے۔اللهم آمین! ویسے تو ہم ہر وقت ہی دعا کرتے ہیں لیکن ہاتھ اٹھا کر جسے انگریزی میں فارمل طریقے پر دعا کرنا کہتے ہیں۔اس طریق پر بھی اب ہم دعا کریں گے۔اس طریق میں بھی برکتیں ہیں اور انفرادی طور پر جو دعا کی جاتی ہے اس میں برکتیں ہیں۔اس لئے آؤ اب ہم اجتماعی دعا کر لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ توحید خالص کو دنیا میں قائم کرے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کو دنیا کے ہر دل میں گاڑ دے۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۸ر جون ۱۹۷۸ء صفحه ۲ تا ۵ )