خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 236
خطابات ناصر جلد دوم ۲۳۶ افتتاحی خطاب ۲۶ دسمبر ۱۹۷۷ء احترام ہے جس طرح دوسرے رسولوں کی ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے ایک بندے تھے خدا نہیں تھے اور یہ بھی کہ وہ صلیب پر سے زندہ اترے تھے اور ان کا جو مشن تھا جس کے پورا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ان کو مبعوث کیا تھا یعنی یہ کہ وہ یہود کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو اکٹھا کریں اس مقصد کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی لمبی زندگی عطا کی کیونکہ بنی اسرائیل ( یہود ) کی جو کھوئی ہوئی بھیڑیں تھیں وہ یروشلم سے لے کر افغانستان، ہندوستان اور کشمیر کی پہاڑیوں کے بہت وسیع علاقے میں پھیلی ہوئی تھیں ان تک پیغام حق پہنچانے کے لئے انہوں نے بڑے لمبے لمبے سفر کئے ہیں اور چونکہ خدا تعالیٰ کا رسول جس غرض کے لئے بھیجا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو اس وقت تک وفات نہیں دیتا جب تک اس غرض کی بنیاد کو پختہ نہ کر دے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو صلیب سے بچا کر دنیا کو اپنی قدرت کا نشان دکھایا اور ان کو موقع دیا کہ وہ اپنے مشن کی تکمیل کریں یعنی یہود کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو اکٹھا کریں اور یہ صرف ہمارا ہی عقیدہ نہیں بلکہ اب بڑے بڑے پادریوں نے بھی تحقیق کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر سے زندہ اترے اور وہ ہجرت کر کے کشمیر اور دوسری جگہوں میں بھی گئے۔جہاں وہ یوز آسف کے نام سے پکارے گئے۔پس یہ ایک عظیم اور بڑا حیران کن انقلاب ہے جو عیسائیت کے بنیادی خیالات میں پیدا ہو گیا ہے۔اس میں میری یا آپ کی کوشش کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فرمایا تھا کہ آسمان سے فرشتے نازل ہوں گے جو تیری تائید میں ساری دنیا میں کام کر رہے ہوں گے ویسا ہی ثابت کر دکھایا ہے۔فالحمد للہ علی ذالک۔غرض یہ اس عظیم جماعت کا جلسہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے اس لئے ہمیں اپنے مقام کو سمجھنا چاہئے۔ہم میں سے ہر ایک کو یہ مجھنا چاہئے کہ وہ انتہائی طور پر حقیر ہے اور بڑا ہی عاجز ہے۔اس کے اندر کوئی طاقت نہیں ہے۔وہ ایک ذرہ ناچیز ہے۔میں تو جب یہ سوچتا ہوں کہ میں کتنا نا چیز ہوں تو تمثیلی زبان میں یہ کہتا ہوں کہ اے خدا! میں جوتی کے تلے کے نیچے جو ذرے ہوتے ہیں ان کا مقام رکھتا ہوں تب بھی میں یہ سمجھتا ہوں کہ شاید یہ بھی میں نے بڑے تکبر کی بات کہہ دی ہے ورنہ خدا تعالیٰ کی ہستی کے مقابلے میں اتنا بھی مقام حاصل نہیں۔لیکن خدا تعالیٰ نے دنیا سے فرمایا کہ طاقت میری ہے اور حکم میرا چلتا ہے۔میں حقیر ذروں کو پکڑوں گا اور مذہبی اور روحانی دنیا میں