خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 212
خطابات ناصر جلد دوم ۲۱۲ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے اور اس طرح ایک فارمولا تیار ہو جاتا ہے۔آج کی سائنس کی دنیا ان کو یہ کہتی ہے اس کا تجربہ لیبارٹری میں ہوگا سائنٹسٹ ان کی بڑی قدر کرتے ہیں میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ ساری دنیا کے مشہور سائنسدان اگر کسی ہال میں بیٹھے ہوں تو جب یہ داخل ہوتے ہیں تو سب ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن اتنا ہی منکسر المزاج ہے ہمارا یہ احمدی بھائی اور بڑا honest ہے بہر حال ان کا ایک فارمولا بنتا ہے یہ ان کی عقل کا کام ہے یعنی تصیور مشکل عقل کے ذریعہ ایک فارمولا تیار ہوتا ہے مگر سائنسدان کہتا ہے جب تک لیبارٹری میں ہم اس کا تجربہ نہ کرلیں گے تمہاری بات نہیں مانیں گے۔پچھلے ایک دو سال کے اندر انہوں نے اپنے دفتر میں بیٹھ کر ز بر دست فارمولے تیار کئے مگر یہ ایسے ہی گپ لگا کر نہیں بنائے بلکہ بڑا حساب لگانا پڑا ہے وہ خودMathematician بھی ہیں اور بڑے حساب لگا کر لاکھوں کروڑوں ضر ہیں اور جمع اور بہ اور وہ کر کے انہوں نے ایک چیز کے متعلق کہا کہ یہ یوں ہے یعنی مادی دنیا میں اس کی یہ شکل ہے انہوں نے کہا تجربہ ہوگا تو مانیں گے اب وہ اتنا ز بر دست فارمولا ہے کہ اس وقت دنیا میں صرف دو لیباریٹیز اس کا تجربہ کرسکتی ہیں ایک امریکہ میں اور دوسرا یورپ کے کسی حصہ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم مصروف ہیں اگلے دو یا چار سال کے بعد تجربہ کر سکتے ہیں پہلے نہیں کر سکتے۔پس جب تک لیبارٹری ٹسٹ ہو کر پتہ نہ لگ جائے کہ جس نتیجہ پر عقل پنچی تھی وہ درست ہے یا نہیں اس وقت تک ہماری عقل کہتی ہے کہ میری بات نہ مانو۔عقل کا کہنا ہے جب تک میرا رفیق میرے ساتھ شامل نہ ہو میری بات نہ مانوچنانچہ مشہودات اور محسوسات کی دنیا میں یعنی اس مادی دنیا میں یہ پانی یا یہ غذا ئیں یہ درخت یہ جڑی بوٹیاں یہ پتھر یہ ہوا یہ چاند یہ ستارے ان کے متعلق لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب تک وہ تجربہ نہ کر لیں عقل کے نتیجہ کو صحیح ثابت نہیں کر سکتے۔غرض خدا تعالیٰ نے عقل کو مشہودات کی دنیا میں مشاہدہ اور تجربہ ( لیبارٹری ورک ) کو اس کا رفیق بنایا ہے جب یہ دونوں اکٹھے ہو جائیں عقل بھی کہے یہ ٹھیک ہے اور لیبارٹری ( تجربہ ) بھی کہے یہ ٹھیک ہے تب انسان کہتا ہے ٹھیک ہے۔ورنہ ٹھیک نہیں ہوتا اور عقل ناکام ہو جاتی ہے اس کی بات نہیں مانی جاتی خود ہماری عقل بات نہیں مانتی۔بعض ایسی چیزیں ہیں جن کا تعلق ماضی سے ہے یا مکانی لحاظ سے بعد ہے مثلاً ہزار میل دور واقع ہوا ہے اب اگر کوئی عقلمند تاریخ دان ان کے متعلق