خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 204
خطابات ناصر جلد دوم ۲۰۴ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء نہیں گیا تھا۔میں نے دعائیں کیں اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت کا یہ راستہ دکھا دیا ہے کہ جو ہماری دعائیں ہیں وہ یہ نہیں کہ ان کے جو اعتراض ہیں یا ان کا جو کبر ہے انہیں توڑنے کے لئے خدا ہمیں کچھ سکھائے بلکہ ہماری ہمیشہ یہ دعا ہوتی ہے کہ اے خدا! ہمیں قرآن کے علوم سکھا کیونکہ تیرے قرآن میں وہ سب کچھ موجود ہے جس کی آج کی دنیا کو ضرور تہے مثلاً مغربی قوموں کو عقل پر بڑا ناز ہے وہ سمجھتے ہیں کہ عقل کے زور سے وہ آگے نکل گئے ہیں چنانچہ میں ان کو بتا تا رہا ہوں کہ جس عقل پر تم ناز کر رہے ہو اس کا حال یہ ہے کہ ایک وقت میں تمہارے چوٹی کے عظمند ڈاکٹروں کے ماں کو یہ نصیحت کی اور مشورہ دیا کہ دیکھنا ! بچے کو دودھ نہ پلانا ورنہ تمہاری صحت بھی خراب ہو جائے گی اور بچے کی بھی خراب ہو جائے گئی۔میرے خیال میں ۳۰۔۴۰ سال تک کئی نسلوں میں یہ اثر نفوذ کرتا رہا انہوں نے کئی نسلوں کو یہ مشورہ دیا ایک ماں کی نسل کے بعد دوسری ماں کی نسل پیدا ہوئی۔چھوٹی بچیاں جوان ہوئیں۔انہوں نے بچے جنے اور وہ مائیں بہنیں اور ان سے کہا بچے کو دودھ بالکل نہ پلانا اور جس وقت میرے اندازہ کے مطابق لاکھوں شاید کروڑوں ماؤں کی صحتیں خراب کر دیں اور بچوں کی زندگیاں تباہ کر دیں تو کہنے لگے کہ ہم نے تمہیں یہ مشورہ دے کر غلطی کی تھی اصل تو یہ بات ہے کہ بچے کو دودھ پلاؤ گی تو تمہاری صحت بھی اچھی رہے گی اور بچے کی صحت بھی اچھی رہے گی۔تم بڑے عقلمند ہو کہ لاکھوں شاید کروڑوں ماؤں کی صحتیں خراب کرنے کے بعد تم نے آرام کے ساتھ عقل کا نتیجہ ؟ پھر ان میں چوٹی کے دماغ ہیں یعنی جو آج کی دنیا ہے اس میں وہ چوٹی کے دماغ سمجھے جاتے ہیں۔فزیشنز ہیں۔طب میں ریسرچ کرنے والے ہیں اب ایک ملک کے چوٹی کے دماغ لے لو اور ان کے مقابلے میں دوسرے ملک کے چوٹی کے دماغ لے لو۔اگر ہمیشہ عقل کا فیصلہ درست ہے اس عقل کا فیصلہ جس کو کہیں اور سے مدد نہ ملی ہو تو پھر اس ملک کی عقل کو اور اس ملک کی عقل کو ایک نتیجہ پر پہنچنا چاہئے مگر وہ ایک نتیجہ پر نہیں پہنچتے۔امریکہ کہتا ہے کہ اگر کوئی سوسال بھی زندہ رہے تو اسے چونا (کیلشیم) کھانا چھوڑ نا نہیں چاہئے انہوں نے ابھی ماضی قریب میں بڑی ریسرچ کی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ دیکھو چونا کھانا چھوڑنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بڑی عمر میں پاؤں پھسلا اور کو لہے کی ہڈی ٹوٹ گئی عورت ہی مرد کی نسبت چونے کی کمی زیادہ ہوتی ہے۔وہاں